سپریم کورٹ، موبائل فون کےجھگڑے پر قتل کرنے والے کی درخواست بریت مسترد

اسلام آباد (خبرنگار) سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کی بریت کیلئے دائر درخواست مسترد کردی ہے ، چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مجرم وسیم اصغر کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کی ، مجرم پر 2007میںلاہور کی مدینہ کالونی میں ظہیر عباس کو موبائل فون کے تنازعہ پر قتل کیا تھا جس پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی تاہم لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا ، ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں تھا ، مدعی والد نے ہر موقع پر جھوٹ بولا ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے مفروضوں کی بنیاد پر توفیصلہ نہیں کرنا ہوتا ۔ عدالت نے قراردیا کہ استغاثہ مجر م کے خلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے اس لئے اپیل خارج کی جاتی ہے ۔ دریں اثنا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ارادہ قتل کیس میں نامزد ملزمان کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کردی ، میانوالی کے دو ملزمان نور خان اور محمد علی خان پر رستم خان اور اسلم خان پر فائرنگ کا الزام تھا تاہم ماتحت عدالت سے انہیں ضمانت مل گئی تھی جسے ہائکورٹ نے برقرار رکھا ، چیف جسٹس کا مدعی کے وکیل سے مکالمہ کے دوران کہنا تھا کہ اس معاملہ میں پولیس نے مدعی کے موقف کے خلاف کہا ہے کہ ملزمان موقعپر موجود تھے لیکن ان کے پاس اسلحہ نہیں تھا مگر مدعی نے الزام لگایا کہ ملزما کے پاس اتشیں اسلحہ تھا ، پولیس نے تفتیش کرکے کیس چالان کردیا ہے سزا جزا کا فیصلہ ہونا باقی ہے تو مدعی کیوں چاہتا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے سے قبل سزاشروع ہوجائے، کیا مدعی چاہتا ہے کہ ملزم کواس کے حوالے کردیا جائے جبکہ پولیس کو تو اس ضرورت نہیں کیا مدعی اپنی اناکی تسکین چاہتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو قتل کرنے آتے ہیں کیا وہ ٹانگوں میں گولیاں مارتے ہیں ، جسٹس قاضی محمد امین کا کہنا تھا کہ آپ نے تو پورے خاندان کو اس کیس میں ملزم نامزد کردیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں