شرجیل میمن ایک بار پھر نیب ریڈار پرآگئے

اسلام آباد(خبرنگار) پیپلزپارٹی کے رہنما سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن ایک بار پھر نیب کے ریڈار پر اگئے ہیں ، ان کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے.

قومی احتساب بیورو(نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی کے 3ریفرنسز دائرکرنے ،12 انکوائریاں شروع کرنے اور ایک انوسٹی گیشن شروع کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ متعدد معاملات دیگر اداروں کو بھجوانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ نیب کے اعلامیہ کے مطابق بدعنوانی کا پہلا ریفرنس عرفان خلیل قریشی سابق مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان اسٹیٹ آئل اور دیگرکے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی ۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مختلف پیٹرولیم کمپنیوں کو آئل کی سپلائی کرنے کامبینہ طور پر الزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر تقریباََ 552ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

دوسرا ریفرنس شرجیل انعام میمن رکن صوبائی اسمبلی سندھ اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی گئی ۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے آمدن سے زائد اربوں روپے کے اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

تیسرا ریفرنس عبد الحمید اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی ۔ملزمان پر مبینہ طورپر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیرات کے ٹھیکے دینے کاالزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کے اعلامیہ کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چیئرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل اکائو نٹیبلٹی ،ڈی جی آپریشن، ڈی جی راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کاروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں12انکوائریوں کی منظوری دی گئی ۔جن میںبابر خان غوری سابق وزیراورپور ٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے افسران و اہلکاران ودیگر،سی ڈی اے کے افسران و اہلکاران ودیگر،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے افسران و اہلکاران اورمیسرز لگن ٹینیکل حسنین جے،ائیر سائیڈ انفرا سٹرکچر نیو اسلام آباد ائیرپورٹ،سجاد منیر ڈی ڈی ایل جی،شہزاد منیر سابق ناظم شکر گڑھ، وائس چئیرمین ضلعی کونسل نارووال اور دیگر،فواد حسن فواد پورٹ قاسم اتھارٹی کراچی کے افسران و اہلکاران ودیگر، شکیل احمد مینیجنگ ڈائریکٹر ایجوکیشن ایمپلائز فائونڈیشن خیبر پختونخواہ اور دیگر، سینیٹرکلثوم پروین، سید اویس شاہ رکن صوبائی اسمبلی سکھراورزبرد ست خان مہراور دیگر،علی غلام نظامانی، سابق رکن سندھ اسمبلی،سعید خان نظامانی رکن سندھ اسمبلی،حاجی خان ارمانی ملازم محکمہ محصولات اور دیگر، قیصر عباس مگسی رکن صوبائی اسمبلی،جام آفتاب سابق اے سی چوبارہ،امتیاز حسین شاہ سابق رجسٹری محرر ، بشیر احمد اور دیگر، خضر حیات سابق سیشن جج کبیروالا خانیوال اور دیگرکیخلاف انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںکاشف الف خان اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںپی ایم ڈی سی کے افسران و اہلکاران ودیگر کے خلاف کیس کو قانون کے مطابق کارروائی کے لئے پی ایم ڈی سی کو بھیجنے کافیصلہ کیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںمیپکو کے افسران واہلکاران ودیگر کے خلاف کیس کوقانون کے مطابق کارروائی کے لئے وزارت توانائی کوبھیجنے کافیصلہ کیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو اجلاس میں ،امجد علی سابق چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ، کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈپارٹمنٹ اورمحکمہ آبپاشی کے افسران و ودیگر، لیڈی ریڈنگ ہاسپیٹل پشاور کے افسران و اہلکاران اوردیگر ،اخلاف کیس چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ کو قانون کے مطابق کاروائی کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو اجلاس میں غلام حسین سچروی اور دیگر کے خلاف کیس کو قانون کے مطابق کاروائی کے لئے ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو اجلاس میں ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہاسپیٹل پشاور کے افسران و اہلکاران ودیگرکے خلاف کیس کو قانون کے مطابق کاروائی کے لئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خبیر پختونخواہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو اجلاس میں شیخ محمد یوسف اور دیگر،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی حکومت پنجاب کے افسران و اہلکاران و دیگر،پنجاب منرلز کمپنی کی انتظامیہ افسران و اہلکاران و دیگر ،فاروق نظیر سابق آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور دیگر، فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ حیدر آباد حکومت سندھ کے افسران و اہلکاران و دیگر،بشیر داوود،مریم داوود اور دیگر،ابسار نبی سابق پرنسپل ایگزیکٹو آفیسرپاکستان اسٹیل ملز اور دیگر،خیبر پختونخواہ احتساب کمیشن کے افسران و اہلکاران و دیگر،سید یاسین شاہ سب انجینئرپرووینشل ہائی وے سب ڈویژن خیر پور آغا محمد پٹھان ٹھیکہ دار اور دیگر، سید نصرت شوکت اور دیگرکے خلاف انکوائریز جبکہ ڈاکٹر جوزف ولسن ایکٹنگ چئیرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان، رانا مصطفی یوسف سابق پرنسپل سٹاف آفیسر پی ایس او /ڈائریکٹر چئیرمین سیکری ٹیریٹ سی سی پی اور دیگر، جام غلام قادر دھریجو اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پر انویسٹی گیشنز قانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں