ملتان، مبینہ بدچلنی کے الزام پر خاتون کا سر مونڈنے والے تین ملزم گرفتار

ملتان: پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے ضلع ملتان میں پنچایت کے فیصلے پربدچلنی کے الزام کا سامنا کرنے والی خاتون کا سر مونڈ دیا گیا ہے.

مقامی صحافیوں سے موصول اطلاعات کے مطابق ملتان کے نواحی علاقے لاڑ میں پنچایت میں سسر،والداوربھائی نے دیگر رشتے داروں کے ساتھ مل کر3بچوں کی ماں کوثر مائی کے سر کے بال مونڈ دئیے .

خاتون کے والد نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیٹی ایک شخص کے ساتھ بھاگ گئی تھی ،کوثر مائی کا سسر غلام فرید گولی مارنا چاہتا تھا پھر میں نے بال کاٹ کر سزا دی، کوثر مائی کے سر کے بال کاٹنے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے جس پرپولیس نے لڑکی کے والد حبیب ، بھائی حنیف اور سسر غلام فرید کو گرفتار کر لیا ہے.

ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ بال کاٹنے میں ملوث مزید 7 ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
تھانہ بستی ملوک نے ملزموں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ،پولیس کے مطابق یہ فیصلہ لڑکی کے گھر والوں اور سسرال کی طرف سے اس کے متعدد بار گھر سے بھاگ جانے پر کیا گیا،

رپورٹس کے مطابق پنچائیت شہزاد شاہ گیلانی ،عابد نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی، پنچایت نے فیصلہ دیا کہ کوثرکے سر کے بال کاٹ دئیے جائیں، ساتھ ہی منہ پر کالا کیاجائے جس پر وہاں موجود افراد نے فوری عمل کیا اور خاتون کے بال کاٹ دئیے ،پولیس نے سسرغلام فرید،والد حبیب اوربھائی حنیف کو گرفتار کرلیا.

پنچایت کے سرغنہ ودیگر افراد فرار ہوگئے جو مبینہ طور پرپی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی کے ڈیرے میں پناہ لئے ہوئے ہیں، اہلیان علاقہ نے بتایا کہ خاتون کا شوہر اکثر اسے مارپیٹ کا نشانہ بناتا رہتا ہے ،کچھ عرصہ قبل اس کے شوہر ظہور قصائی نے دونوں ٹانگیں بھی توڑ دی تھیں، اب بھی اسے گولی مارنا چاہتا تھا لیکن پنچایت کی وجہ سے ایسا نہ کیا.

پولیس حراست میں موجود ملزمان سسرغلام فرید ،والد حبیب اور بھائی حنیف کا کہنا ہےکہ کوثر مائی کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی جس پر اسے یہ سزادی اور ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں