نیب آرڈیننس 1999میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش

اسلام آباد: نیب آرڈیننس 1999میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کر دیا گیا، بل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی جانب سے پیش کیا گیا۔سینیٹ کے اجلاس میں پی پی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے 1999کے نیب آرڈیننس سے متعلق ترمیم کا بل پیش کیا،چئیرمین سینیٹ نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی ہے جب کہ آج نیب پٹواری، کلرک اور آئی جی پولیس کو بھی گرفتار کر لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب آرڈینن اس وقت آیا جب ملک پر ایک آمر کی حکومت تھی مگر بدقسمتی سے اس میں بعد کی حکومتوں نے نہ تو ترامیم کیں نہ ہی اسے ختم کیا۔اس قانون کے تحت پراسیکیوشن نہیں بلکی انتقام لیا جاتا ہے،اس بل میں ہم نے یہ لوٹی گئی رقم کی مقدار طے کی ہے کہ 50کروڑ تک کی کرپشن پر نیب کو مقدمے لینے کا اختیار ہو گا تمام صوبوں میں اینٹی کرپشن یونتس موجود ہیں اس سے کم کرپشن کو وہ خود دیکھیں گے۔اسی طرح سے سیکشن 6۔اے جس کے تحت آمدن سے زائد اثاثوں کے بارے میں نیب تحقیقات کر تا ہے اس میں پہلے یہ بتانا ہو گا کہ یہ اثاثے کس جگہ سے کرپشن کر کے بنائے گئے پھر نیب کو تحقیقات کا اختیار ہو گا،ہماری ملک میں داکومنٹیڈ اکانومی نہیں ہے کسی کے پاس اپنے اثاثون کے ذرائع بتانے کی دستاویز نہیں ہو تیں،انہوں نے مزید کہا کہ نیب کورٹس کو ضمانت کا اختیار دیا جائے گا،اور تفتیش و انکوائری کے مرحلے میں گرفتاری بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے اگر تفتیش کر نا ہے تو کسی کو صبح پکڑا جائے تو شام کو اسے چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنے وکیل اور رشتہ داروں سے مل سکے یہاں تو کھانے کے لیے بھی درخواستیں دینا پڑتی ہیں،اسی طرح سے ابھی ریفرنس فائل نہیں ہوا ہوتا اور 90دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا جاتا ہے یہ بھی غلط ہے ۔اسی طرح سے بل میں ریفرنس دائر ہونے سے پہلے نیب کی طرف سے میڈیا ٹرائل روکنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ نیب قوانین میں تبدیلی کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آیا، آیندہ دس دنوں میں ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا جائے گا۔سینیٹ نے ایرا کی ذمہ داریوں سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں 60 دن توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سسی پلیجو نے تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا،آئینی ترمیمی بل 2018ء آرٹیکل 27 کی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ئینی ترمیمی بل 2018ء جدول چہارم کی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع دینے کی منظوری دے دی گئی۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا،آئینی ترمیمی بل 2018ء آرٹیکل 260 کی ترمیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع دینے کی منظوری دے دی۔ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ملازمین کے دھرنے سے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع دینے کی منظوری دے دی۔چیئرمین سینیٹ نے تجارتی تنظیمیں ترمیمی بل 2019ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ اس سلسلے میں سینیٹر نصیب اﷲ بازئی نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی جس کے بعد بل چیئرمین نے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔چیئرمین سینیٹ نے دستور ترمیمی بل 2019ء (آرٹیکلز 1، 51، 59، 106، 175 الف، 198 اور 218 میں ترمیم) متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ اس سلسلے میں سینیٹر بہرہ مند تنگی، روبینہ خالد، امام الدین شوقین اور دیگر ارکان نے تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا جس کے بعد چیئرمین نے دستور ترمیمی بل 2019ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2019ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا سینیٹر عتیق شیخ نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی جس کے بعد چیئرمین صادق سنجرانی نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اسلام آباد ادارہ برائے خالص خوراک (ترمیمی) بل 2019ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سینیٹر سجاد حسین طوری نے تحریک پیش کی ،سینیٹ نے دستور ترمیمی بل 2019ء (آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم) متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں اس سلسلے میں سینیٹرز سجاد حسین طوری، احمد خان، نصیب اﷲ بازئی، ثناء جمالی، منظور احمد، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، سرفراز بگٹی، اشوک کمار، محمد اکرم، یعقوب خان ناصر، عثمان کاکڑ، مولانا عبدالغفور حیدری، آغا شاہزیب درانی، کلثوم پروین، سردار محمد شفیق ترین، میر کبیر احمد محمد شاہی اور عابدہ محمد عظیم نے تحریک پیش کی۔ سینیٹر نصیب اﷲ بازئی نے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان چونکہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں کم ہیں۔ بلوچستان کے چار چار اضلاع پر مشتمل قومی اسمبلی کی ایک سیٹ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ضلع میں قومی اسمبلی کی ایک سیٹ ہونی چاہئے۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی، راجہ ظفر الحق اور میر کبیر نے بھی اس پر اظہار خیال کیا جس کے بعد ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی اور چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں