ویڈیو سکینڈل، جج ارشد ملک کا مقدمہ کمزور ہوگیا، قانونی ماہرین

اسلام آباد: قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ حتساب عدالت کے سابق جج ملک ارشدکی طرف سے درج کرائے گئے مقدمہ میں نامزدتین ملزمان کے الزامات سے ڈسچارج ہونے کے باقی مقدمہ پر سنگین اثرات مرتب ہونگے ،

نیوز اینڈ ویوز ایک ساتھ سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے قیصر امام ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ اس سے جج کا مقدمہ انتہائی کمزور ہوگیا ہے کیونکہ پانچ ملزمان میں سے تین کے خلاف مدعی کاموقف جھوٹا ثابت ہوا ہے اس میں سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا اطلاق ہوتا ہے جن میں قانون وضع کیا گیا ہے کسی مقدمہ میں یہ ثابت ہوجائے کہ آدھا جھوٹ بولاگیا ہے تو پورا بیان جھوٹا تصور کیا جائے گا ،

ان کا کہنا تھا کہ اس مذکورہ مقدمہ کے ان تین ملزمان کے علاوہ دیگر دو ملزمان بیرون ملک فرار ہیں ان کی حد تک کیس برقرار رہے گا ان کو واپس لانے کیلئے قانون اپنا راستہ بنائے گا تاہم تین ملزمان کی حد تک جج کا موقف جھوٹا ثابت ہونے سے باقی کیس پر بھی اس کا سنگین اثر ہو گا ان کا کہناتھا کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق 63کے تحت مجسٹریٹ کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ تفتیش کے دوران ناکافی شواہد کی بنا پر نامزد افراد کانام مقدمہ سے خارج کرنے کا حکم دیتا ہے ، جبکہ عدم شواہد کی بنا پر تفتیشی ادارہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق163 کے تحت نامزد ملزمان کے نام ایف آئی آر سے خارج کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں جج ویڈیوسکینڈل کیس میں ایک فریق کے وکیل اکرام چوہدری نے موقف اپنایا کہ اس معاملہ میں ایف آئی اے نے روایتی انداز میں تحقیقات کی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ کسی انجام پر پہنچے بغیر ختم ہوجائے گا ، تفتیشی ادارے نے مقدمہ درج ہونے کے بعد آزادانہ طور پر تفتیش کرنا ہوتی ہے لیکن ایف آئی اے کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی کی یہ خواہش نہیں کہ اس تفتیش کو درست انداز میں آگے بڑھایا جائے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں بھی خدشات کا اظہار کیا تھا کہ درست انداز میں تحقیقات نہیں کی جارہی ۔

سینئر قانون دان سربراہ تحریک تحفظ عدلیہ حشمت حبیب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ تین ملزمان کے ڈسچار ج ہونے سے سار امقدمہ مشکوک ہوگیا ہے ،اس کے بعد تقریبا کیس ختم ہوگیا ہے ، اب فرار ملزمان کی جانب سے بھی وارنٹ گرفتاری کو چیلنج کردیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں