اگست میں دو لاپتہ افراد کی لاشیں موصول ہوئیں ، بازیابی کمیشن کا انکشاف

اسلام آباد(عابدعلی آرائیں)ملک بھر سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کیلئے قائم کمیشن نے گذشتہ ماہ اگست میں کل47لاپتہ افراد کے مقدمات نمٹائے ہیں جبکہ اس ایک ماہ میں 55 نئے مقدمات کا اندراج ہوا جس کے بعدکمیشن کے پاس زیرالتوا مقدمات کی تعداد بڑھ کر 2265ہوگئی ہے ۔ گذشتہ ماہ کے دوران29لاپتہ افراد گھروں کوواپس لوٹے اور 2لاپتہ افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں ۔

کمیشن کی طرف سے جاری تازہ دستاویزات کے مطابق لاپتہ افراد کے لئے قائم قومی کمیشن کو 9سال قبل اپنے قیا م سے 31 اگست 2019 تک اب تک جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق مجموعی طور پر 6332 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 31 اگست 2019 تک 4067 درخواستیں نمٹائی گئی ہیں ۔ اگست میں کل41افراد ٹریس کئے گئے جن میں سے 29کی گھروں کو واپسی ہوئی ہے جبکہ 06افرادکی مختلف حراستی مراکز میں موجودگی کاپتہ چلایا گیا4 افرادمختلف جیلوں میں قید ہیںجبکہ اگست میں 2 لاپتہ شہریوں کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں،

تازہ عداو شمار کے مطابق کمیشن نے ان06مبینہ لاپتہ افرادکے مقدمات بھی نمٹائے ہیں جو لاپتہ فراد کے ذمرے میں نہیں آتے تھے یا ان کے مکمل ایڈریس موجود نہیں تھے۔رواں سال کے پہلے8 ماہ میں لاپتہ افراد کمیشن نے کل516مقدمات نمٹائے ہیں جنوری میں 48فروری میں 60جبکہ مارچ میں 75 اپریل میں 59 مئی میں 54 ، جون میں 91 , جولائی میں 82 اور اگست میں47مقدمات نمٹائے ہیں ان8 ما ہ میں کل 627نئے لاپتہ افراد کے مقدمات کااندارج ہوا جنوری میں 71،فروری میں 76جبکہ مارچ میں 62, اپریل میں136 مئی میں 74اور جون میں 21جبکہ جولائی میں 121اور اگست میں55نئے مقدمات دائر ہوئے ۔

یاد رہے کہ لاپتہ افراد کمیشن 13مارچ2011کو قائم کیاگیا تھاجس نے 9سال میں کل4067مقدمات نمٹائے ہیں۔ زیرالتوا مقدمات میں 334پنجاب، 395سندھ، 1159خیبر پختونخوا، 160بلوچستان، 61اسلام آباد، فاٹا کے131،آزاد کشمیر کے 19اور گلگت بلتستان کے 6مقدمات شامل ہیں۔

کمیشن کی دستاویزات کے مطابق کمیشن کے قیام سے اب تک سامنے آنے والے 6156لاپتہ شہریوں کے مقدمات میں سے اب تک 196افراد کی لاشیں برآمد ہوچکی ہیں ، 1845افراد خود واپس گھروں کو لوٹے، 785حراستی مراکزمیں موجود ہیں 489افراد مختلف جیلوں میں موجود ہیں 33315افراد کو ٹریس کرلیا گیاجبکہ 752ان افراد کے مقدمات نمٹائے گئے ہیں جن کے ایڈریس موجود نہیں تھے یا وہ لاپتہ افرادکے ذمرے میں نہیں آتے تھے۔

کمیشن نے اگست 2019 میں 523 سماعتیں کیں جن میں سے اسلام آباد میں 219سماعتیں، لاہور میں 72 سماعتیں، کراچی میں 151پشاورمیں81سماعتیںکی گئیں لیکن کوئٹہ میں کسی لاپتہ شہری کے مقدمہ کی سماعت نہیں ہوسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں