پولیس تشدد سے مرنے والا صلاح الدین ذہنی مریض تھا، انسانی حقوق کمیشن

اسلام آباد: پنجاب پولیس کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے صلاح الدین کے معاملہ میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے حقائق جاننے کے لئے قائم مشن نے پورٹ میں مقتول صلاح الدین کوذہنی مریض قرار دیدیا۔

ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کمیشن کے ممبران ڈاکٹر بشیر ایچ شاہ اور صفدر چودھری نے پولیس تشددسے ہلاک ہونیوالے شہری صلاح الدین کے گاؤں کا دورہ کیا اور اس کے والد، بھائی اور اہل علاقہ سے ملاقاتیں کیں اورصلاح الدین بارے معلومات حاصل کیں۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق صلاح الدین مرغی کے بچوں کی گردنیں مروڑ دیتا ، دیگر جانوروں کو بھی ایذا پہنچاتا تھا۔ وہ چیزوں کو آگ لگا کر بھی خوش ہوتا تھا۔

صلاح الدین پہلی بار 12 سال کی عمر میں گھر سے بھاگا، اس کے بعد کئی بار گھر سے بھاگا ۔ وہ چوری اور مشتبہ حرکات کے الزام میں دو دفعہ اڈیالہ جیل میں بھی قید رہا ۔

صلاح الدین کے والد کے مطابق بیٹے کی میت کو غسل دیتے وقت اس کے جسم پر تشدد کے کافی نشانات نظر آئے ۔

فیکٹ فائنڈنگ مشن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ والد، بھائی ،وکیل اور اہل علاقہ سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوئی کہ صلاح الدین پر بدترین تشدد کیا گیا ہے

۔مشن کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کے اہلخانہ کوانصاف دینے کیلئے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جلد شروع کرائی جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں