نیب قانون ترمیم ، حکومت کا حزب اختلاف سے رجوع کا فیصلہ

اسلام آباد:نیب قوانین میں ترامیم کا معاملہ پرحکومت نے حزب اختلاف سے رابطہ کرنیکافیصلہ کیا ہے .

اعلی حکومتی ذرائع کے مطابق نیب قوانین میں ترامیم پراپوزیشن کمیٹی سے بات چیت کرکے اعتمادمیں لیاجائیگاحکومت نیب قوانین میں تجویزکردہ ترامیم کامسودہ اپوزیشن کے سامنے رکھے گی نیب قوانین میں ترامیم پرحکومتی اوراپوزیشن کے مابین آخری بیٹھک کوکئی ماہ گزرچکے ہیں .

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کیساتھ نہ دینے پرحکومت نیب قوانین میں ترامیم بذریعہ آرڈیننس کریگی،ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کیساتھ مل کربذریعہ پارلیمنٹ ترامیم کرناچاہتی ہے،

نیب قوانین میں ترامیم پر حکومت اور اپوزیشن ملاقات اگلے ہفتہ متوقع ہے ، اس سے قبل نیب قوانین میں ترامیم پرحکومت اوراپوزیشن نمائندوں کے درمیان چارملاقاتیں ہوچکی ہیں،

قوانین میں ترامیم کے حوالے سے قائم کمیٹی میں فروغ نسیم،ملیکابخاری،علی محمدخان حکومتی ممبران ہیںاپوزیشن کی جانب سے سابق سپیکرایازصادق،نویدقمر،زاہد حامداوردیگرارکان شامل ہیں ۔
یاد رہے کہ وزارت قانون نے نیب قانون میں تجویز کردہ ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے،


مسودہ کے مطابق نیب کے کسی بھی مقدمہ میں گرفتار ملزم کے جسمانی ریمانڈ کو 90 دن سے کم کر کے 45 دن کرنے کی تجویز دی گئی ہے ,مسودہ کے مطابق نیب کی جانب سے تحقیقات کے بعد بند ہونے والے کیس کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکے گا اور
احتساب عدالتیں قبل از گرفتاری اور گرفتاری کے بعد ضمانت دے سکیں گی جبکہ پلی بارگین کے ملزم کی درخواست کی منظوری وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی ہی دے گی,

مسودہ کے مطابق پلی بارگیننگ کے تحت لوٹی گئی رقم واپس کرنے کے بعد ملزم آئندہ دس سال تک کسی بھی سرکاری عہدہ کے لیے نااہل ہو گا. مسودہ میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی مقدمہ میں اگر تفتیش اور تحقیقات کا مرحلہ 3 ماہ میں مکمل نہ کیا گیا تو ملزم ضمانت کا اہل ہوگا,مسودہ میں ٹیکس, سٹاک اکسچینج, آئی پی اوز سے متعلق معاملات میں نیب کا دائرہ اختیار ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ,سرکاری ملازم کے اثاثوں میں بےجا اضافے پر اختیارات کے ناجائز استعمال کی کاروائی ہو سکے گی,مسودہ
کے مطابق
سرکاری ملازم کی جائیداد کو عدالتی حکم نامے کے بغیر منجمند نہیں کیا جا سکے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں