پاک بھارت کشیدگی، آج پہلی مرتبہ تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کھول دیا گیا

تیتری نوٹ: بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد لائن آف کنٹرول پر منقسم خاندانوں کواس وقت ایک ہلکی سی امید کی کرن نظر آئی جب آج پہلی مرتبہ تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کو کھول دیا گیا۔

کشمیر میں کشیدگی کے بعد یہ کراسنگ پوائنٹ تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل طورپر بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان چاہے کسی قسم کے حالات بھی رہے ہوں لیکن اس پوائنٹ پر بیشتر اوقات نرمی ہوتی تھی اور یہاں سے تجارت بھی ہوتی تھی

کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے بعد تقریباً 46 افراد نے لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سفر کیا اور اپنی اپنی منزل پر پہنچے۔ ان میں 40 افراد انڈیا کی طرف سے جبکہ چھ افراد پاکستان سے گئے۔ آنے جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

ایل او سی پار کر کے آزادکشمیر پہنچنے والے ایک شخص قاضی جمال الدین تقریباً ڈیڑہ ماہ قبل لائن آف کنٹرول عبور کر کے اپنی بہن سے ملاقات کے لیے گئے تھے جہاں انھوں نے عید الضحی بھی گزاری۔انھوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے بعد جب کشیدگی کا آغاز ہوا تو انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ واپس اپنے گھر صحیح سلامت پہنچ جائیں گے۔’آج میں اللہ کا خاص طور پر شکر ادا کرتا ہوں کہ میں خیر خیریت سے اپنے وطن پہنچ گیا ہوں اور اپنے بچوں کے درمیان ہوں۔

‘قاضی جمال الدین نے کہا ‘میں اپنی بہن سے ملنے کے لیے 25 دنوں کے لیے گیا تھا لیکن جب کشیدگی شروع ہوئی تو مجھے مجبوراً رکنا پڑا اور ہمیں بتایا گیا کہ پل ٹوٹ گیا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی صرف بہانہ بنایا جا رہا تھا۔’ان کے مطابق ‘انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے زیادہ تر علاقوں میں لوگ گھروں کے اندر محبوس ہیں اور ہم بھی گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے تھے، وہاں ہر طرف فوجی دستے تعینات ہیں۔’اپنے بھائی کے ہمراہ واپس آنے والے محمد امین نے کہا ‘مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میں جنت میں آ گیا ہوں۔’

انھوں نے کہا ‘وہاں میری بہن اور دیگر رشتہ دار بار بار یہ اصرار کر رہے تھے کہ میں فوراً اپنے وطن واپس چلا جاؤں کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ ان کے ساتھ جو ہو گا وہ تو دیکھا جائے گا لیکن کم ازکم ان کو تو کوئی پریشانی نہ ہوں۔ انھیں یہ خدشہ بھی تھا کہ ایسا نہ ہو کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے پھر چھڑانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

محمد امین نے مزید بتایا کہ فروری میں دونوں ممالک کے درمیان جو مسائل پیدا ہوئے اس کے بعد سے ایل او سی پر سوائے تیتری پوائنٹ کے تمام کراسنگ پوائنٹ بند کردیے گئے تھے لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ شاید یہ لوگوں کی یہاں سے آخری کراسنگ تھی کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ آنے والوں دنوں میں منقسم خاندانوں کے لیے سختیاں مذید بڑھی

اپنا تبصرہ بھیجیں