تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وزیرِ مملکت برائے محصولات حماد اظہر نے اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے ، بجٹ کا حجم 67 کھرب ، ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب ، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 550 ارب رکھا گیا ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں پانچ سے دس فیصد اضافہ ، وفاقی وزرا کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ چارلاکھ سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس دینا ہوگا۔احساس پروگرام کے تحت 110ارب روپے،کراچی کیلئے ساڑھے45ارب روپے،توانائی پروگرام کیلئے 1800 ارب ، اعلی تعلیم کے لئے 43ارب،زراعت کیلیے12ارب روپے،بلوچستان کیلیے10.4ارب ،سکھر،ملتان موٹر وے کے لیے19ارب ،بجلی اورگیس کے لیے40ارب روپے کی سبسڈی، گندم اورچاول کی پیداواربڑھانے کے لیے44.8ارب روپے۔ڈیموں کے لیے 70ارب،نان فائلرزکے لئے غیرمنقولہ جائیدادکی خریداری پرپابندی ختم اور 50لاکھ سے زائدکی جائیداد خریداری پرپابندی ختم،سگریٹس پرٹیکس سے147ارب روپے حاصل کرنیکاتخمینہ،چکن،مٹن،بیف،مچھلی کے گوشت کی تیارمصنوعات پر17فیصدسیلز ٹیکس عائدکرنے،5برآمدی شعبوں پر17فیصدسیلزٹیکس کی شرح بحال کرنے،ٹیکسٹائل،چمڑہ، کارپیٹ،کھیلوں ،سرجیکل سامان پر17فیصدسیلزٹیکس لاگوہوگا،موبائل فون کی درآمد پر3فیصدویلیوایڈیشن ٹیکس ختم ، ریسٹورنٹس، بیکری مصنوعات پرسیلزٹیکس کم کر کے ساڑھے7فیصدکرنے ،مشروبات پرڈیوٹی11.25سے بڑھاکر14فیصدکردی گئی، خوردنی تیل اورگھی پر17فیصد ڈیوٹی عائد،سیمنٹ پرڈیوٹی 2روپے فی کلوکردی گئی،ایک ہزارایک سی سی سے2ہزارسی سی تک گاڑیوں پر5فیصدڈیوٹی عائد ،2ہزارسی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے7فیصد ہوگی،چینی پرسیلز ٹیکس17فیصد کردیا گیا جس سے چینی کی قیمت میں3روپے65پیسے فی کلو اضافہ ہوگا،سنگ مرمرپر سیلزٹیکس17فیصدکردیاگیا۔منگل کو اسپیکراسد قیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کااجلاس ہوا ،تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبولۖ اور قومی ترانہ کے بعد وزیرمملکت برائے خزانہ حماداظہر نے اسمبلی اجلاس میں بجٹ پیش کیا ۔ اس موقع پر ان کاکہنا تھاکہ اب لوگوں کی زندگی بدلنے کا وقت ہے،دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر دس ارب سے بھی کم رہ گئے،پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا،97ارب ڈالرکے بیرونی قرضوں کاسامنا ہے،مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، مالیاتی نظام میں بے نظمی کی وجہ سے مالیاتی خسارہ بڑھا،جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا،تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا،انہوں نے بتایاکہ تحریک انصاف نئی سوچ اورنیاپاکستان لائی،سابق حکومت نے زیادہ شرح سود پر قرضے لیے،5سالوں میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،جب ہم آئے تو مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے،ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا،مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا،جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا،97ارب ڈالرکیبیرونی قرضوں کاسامنا ہے،تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا،بجلی کے گردشی قرضوں میں بارہ ارب روپے کی کمی آئی،برآمدات میں اضافے کیلیے حکومت نے اقدامات کیے ہیں، حماد اظہرنے کہا کہ مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیاہے، ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے،ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپیسے کم کرکے26ارب روپے تک لے آئے،درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے،برآمدات میں اضافے کیلیے حکومت نے اقدامات کیے ہیں، آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیاہے،ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے،احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئے سفرکاآغاز ہواہے،حماد اظہرنے بتایاکہ معیشت مالی بحران کاشکار ہے،درآمدات کو 49ارب ڈالرسے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے،2سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر10ارب سے بھی کم رہ گئے، 5سالوں میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،چین،سعودی عرب اوریو اے ای سے قرضہ لیاگیا، ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپیسے کم کرکے26ارب روپے تک لے آئے،تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں،بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے،ماضی میں پاکستانی روپے ی قدربرقرار رکھنے کے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے،برآمدات میں اضافے سے مالی خسارے کو کم جائے گا،ترسیلات زدمیں2ارب ڈالر کا اضافہ ہوا،سرکاری اداروں کا خسارہ 1300 ارب روپے رہا،اسٹیٹ بینک کو مزید خودمختاری دی گئی ہے،صرف بیس لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں 6 لاکھ ملازمین ہیں،اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائیگی، نئے بجٹ میں بیرونی خسارے کو کم کیا جائے گا،سول اور عسکری حکام نے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے، تجارتی خسارے میں 4ارب ڈالر کی کمی لائے ہیں،حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 کردیے ہیں،پاکستان کا دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسے مقدم ہے،حماد اظہر نے کہا کہ 80ہزار مستحق لوگوں کوہرمہینے بلاسود قرضے دیے جائیں گے،حکومت نے غربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی ہے،ہم ماہانہ گردشی قرضہ38ارب روپے سے کم کرکے26ارب روپے تک لیآئے،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا،اب لوگوں کی زندگی بدلنے کاوقت آگیاہے،اقتدارسنبھالاتومعیشت بحران کاشکارتھی، بیرونی خسارے میں کمی ہماری پہلی ترجیح ہے،احتساب کانظام اورطرزحکمرانی بہتربنانے کے لئے اقدامات کیے ہیں،برآمدات میں اضافے کے لئے ڈیوٹی اسٹرکچر پرکام کریں گے،ٹیکس کانظام بہتربنایاجائیگا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں گریڈوائزاضافے کی منظوری دی گئی ہے،دوست ممالک سے9ارب ڈالرسے زائدکی امدادملی،کم آمدن افرادکوسستے گھربناکردیئے جارہے ہیں،مالیاتی نظم وضبط،معاشی اصلاحات کے لئے حکومتی سنجیدگی واضح ہے،سعودی عرب سے3.2ارب ڈالرکی مخرادائیگی پرتیل کی سہولت ملی،رواں سال کرنٹ اکانٹ خسارے میں 7ارب ڈالرکی کمی آئیگی،بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلیے اسٹیٹ بینک سے قرض لیاجاتاتھا جو اب نہیں لیاجائیگا، قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں بتایاکہ سوات ایکسپریس وے کو بڑھایا جائیگا،آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، بجٹ خساریکاہدف جی ڈی پی کے 7.1 فیصدرکھا گیا ہے،ترقیاتی بجٹ کیلئے 93 ارب روپے مختص کیے جائیں گے،صوبوں سے اضافی 423 ارب روپے وصول ہونیکی امیدہے،کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کیلئے ساڑھے 45 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،دفاعی اخراجات، سروسز پر 1152 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے،صوبوں کیلیے3ہزار225 ارب روپے رکھے گئے ہیں،ٹیکس وصولیوں کاکل حجم5ہزار822ارب20کروڑروپے رکھاگیا ہے ، انہوں نے ایوان کو بتایاکہ ایف بی آرکا ٹیکس وصولیوں کا ہدف5ہزار555ارب روپے رکھاگیاہے،300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنیوالوں کوسستی بجلی دیں گے،10لاکھ معذوراورمستحق افرادکوراشن کارڈزدیئے جائیں گے،آبی وسائل کیلیے70ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں،احساس پروگرام کے تحت غریبوں کی مددکیلئے110ارب روپے کابجٹ ہوگا،کراچی کے9ترقیاتی منصوبوں کیلئے ساڑھے45ارب روپے مختص کیے ہیں،توانائی پروگرام کیلئے1800ارب روپے مختص کیے ہیں اسی طرح اعلی تعلیم کے لئے 43ارب روپے کے فنڈز،زراعت کیلیے12ارب روپے رکھے جارہے ہیں،بلوچستان کی ترقی کیلیے10.4ارب ،سکھر،ملتان سیکشن کیلیے19ارب ،بجلی اورگیس کیلیے40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے،44.8ارب روپے گندم اورچاول کی پیداواربڑھانے کے لیے۔دیامربھاشہ ڈیم کیلیے20ارب،مہمندڈیم کیلیے15ارب مختص کیے ہیں۔ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس ترقیاتی کاموں کے لیے دس کھرب تیس ارب روپے وفاقی سطح پر مختص کیے گئے تھے، رواں برس تقریبا اٹھارہ کھرب روپے مختص کیے گئے ہیںترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت، پانی وغیرہ کے لیے 93 ارب مختص کرے گی، حکومت کوشش کرے گی کہ قیمتوں میں کم از کم اضافہ ہو، عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہو تو بھی غریبوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، 950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے رکھے گئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں صاف پانی، سرمایہ کاری اور بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 156 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پشاور کراچی موٹر وے کے سکھر سیکشن کے لیے 19 ارب روپے مختص، انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے کی تجویز ہے۔ کوئٹہ ڈیویلپمنٹ پیکج کا حجم 10.2 ارب روپے رکھا گیا ہے، 43.5 ارب روپے کراچی کے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔پاکستان اپنے مخصوص جغرافیے کے سبب سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے، دفاع پر کثیر رقم خرچ کرنا ہماری سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ گزشتہ برس دفاع کے لیے 11 کھرب روپے مختص کیے گئے، پاک فوج کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں لیا جائے گا۔پاکستان میں توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ برس اس مد میں 138 ارب روپے رکھے گئے تھے۔پاکستان میں اعلی تعلیم کا حصول ایک انتہائی مشکل امر ہے اور اس مد میں بہت کم رقم مختص کی جاتی ہے، گزشتہ برس اس میں میں 57 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، رواں برس اس ضمن میں 43 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے بعد سے صحت صوبائی معاملہ ہے لیکن وفاق بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے گزشتہ برس صحت کی مد میں37 روپے مختص کیے گئے تھے۔پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیگزشتہ سال اس شعبے کی دی جانے والی سبسڈی صوبوں کی صوابدید پر چھوڑی گئی تھی اور زرعی قرضوں کی مد میں 1100 ارب روپے رکھے گئے تھے۔کمزور طبقے کے لئے حکومت نے چار خصوصی پالیسیز ترتیب دی ہیں، کمزور طبقے کو بجلی پرسبسڈی دینے کے لئے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔غربت کے خاتمے کے لئے نئی وزارت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، 10 لاکھ افراد کے لئے نئی راشن کارڈ اسکیم شروع کی جارہی ہے۔ احساس پروگرام کیتحت وظیفے 5000 روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کیے جائیں گے۔عمر رسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے. کمزور طبقے کی سماجی تحفظ کے لئے بجٹ مختص کیا گیاآئندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں ،مشروبات پرڈیوٹی11.25سے بڑھاکر14فیصدکردی گئی،خوردنی تیل اورگھی پربھی17فیصد ڈیوٹی عائد،سیمنٹ پرڈیوٹی ڈیڑھ روپے سے بڑھاکر2روپے فی کلوکردی گئی،ایل این جی پرفیڈرل ایکسائزڈیوٹی10روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکرنیکی تجویز،ایک ہزارایک سی سی سے2ہزارسی سی تک گاڑیوں پر5فیصدڈیوٹی عائد کی گئی ہے ،2ہزارسی سی سیزائد کی گاڑی پرڈیوٹی ساڑھے7فیصدعائد،چینی پرسیلز ٹیکس17فیصدعائد،چینی کی قیمت میں3روپے65پیسے فی کلو اضافہ ہوگا،درآمدی بیف اورمچھلی کے گوشت پربھی17فیصدسیلزٹیکس عائددرآمدی پولٹری اوربکرے کے گوشت پر17فیصدسیلزٹیکس عائد،سنگ مرمرپرسیلزٹیکس1.2فیصدبڑھاکر17فیصدکردیاگیا،فاٹاکے علاقوں کیلیے152ارب روپے مختص کیے گئے،گیس کاگردشی قرضہ150ارب روپے ہے،کمپنیوں کیلیے کارپوریٹ اِنکم ٹیکس کاریٹ2سال تک29فیصدعائدکر دیاگیا،وفاقی بجٹ میںداسوپن بجلی منصوبے کے لئے 55ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ 4لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا، اِنکم ٹیکس پر12لاکھ روپے کی حدختم کردی گئی،تنخواہ دارطبقے کی سالانہ6لاکھ روپے آمدن پرٹیکس عائدہوگا،کوئٹہ کی ترقی کیلئے10.4ارب روپے کے خصوصی پیکج کااعلان، تحائف کی وصولی آمدن تصورہوگی،کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔حماد اظہر نے دوران بجٹ اجلاس ایوان کو بتایاکہ53ارب روپے سیکیورٹی،5ارب روپے وزیر اعظم یوتھ اسکل پروگرام کے لئے،17ارب روپے بے گھرافرادکے لئے،5ارب روپے زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے مختص کیے گئے ہیں،ایل این جی پر کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے،گریڈ17سے20تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں5فیصد اضافہ کیاجا رہا ہے،گریڈ21 سے22 کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،گریڈایک تا16کے ملازمین کی تنخواہوں میں10فیصداضافہ،غیرترقیاتی اخراجات کاحجم6ہزار192ارب 90کروڑ،پنشن کی مدمیں اخراجات کاتخمینہ421ارب،خالی پلاٹ10سال میں فروخت کیاتوگین ٹیکس عائدہوگا،تعمیرشدہ مکان5سال کے اندر بیچنے پر گین ٹیکس ہوگا۔غیرمنقولہ جائیدادکی خریداری پرودہولڈنگ ٹیکس کی شرح2سے کم کرکے1فیصدکی جارہی ہے،دودھ کریم اور فلیورڈ دودھ پر 10فیصد ٹیکس عائد ہوگا ،کاغذ کے خام مال پرکسٹم ڈیوٹی نہیں ہوگی،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح صرف12فیصدہے،کوشش ہوگی مشکل فیصلوں کے اثرات عوام پرکم سے کم ہوں،وزیرمملکت کا کہنا تھاکہ 201920معیشت کے استحکام کاسال ہے،ترقیاتی بجٹ میں بجلی،پانی،تعلیم،سی پیک کے منصوبے شا مل ہیں،اسپیشل پرائیویٹ سیکرٹریز،پرائیویٹ سکریٹریز کی تنخواہوں میں25فیصداضافہ،اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریزکی تنخواہوں میں25فیصداضافہ،تنخواہ داروں کے لیے انکم ٹیکس کی سالانہ چھوٹ12لاکھ روپے کم کرنیکی تجویز،ماہی پروری کے لیے9.3ارب روپے ،کم سے کم تنخواہ17ہزار500روپے مقررکی گئی ہے،نان فائلرزکے لئے غیرمنقولہ جائیدادکی خریداری پرپابندی ختم کرنیکی تجویز،نان فائلر کے نام پر50لاکھ سے زائدکی جائیدادکی خریداری پرپابندی ختم،سگریٹس پرٹیکس کی مدمیں آئندہ مالی سال147ارب روپے حاصل کرنیکاتخمینہ،کولڈڈرنکس پرایف ای ڈی11.25سے بڑھاکر14فیصدکرنیکی تجویز،چکن،مٹن،بیف،مچھلی کے گوشت کی تیارمصنوعات پر17فیصدسیلز ٹیکس عائدکرنیکی تجویز،5برآمدی شعبوں پر17فیصدسیلزٹیکس کی شرح بحال کرنیکی تجویز،ٹیکسٹائل،چمڑہ، کارپیٹ،کھیلوں اورسرجیکل سامان پر17فیصدسیلزٹیکس لاگوہوگا،موبائل فون کی درآمدپر3فیصدویلیوایڈیشن ٹیکس ختم کرنیکی تجویز، ریسٹورنٹس، بیکری مصنوعات پرسیلزٹیکس17سے کم کر کے ساڑھے7فیصدکرنیکی تجویز،بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلزکیلیے8ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے،کے الیکٹرک کیلیے59ارب50کروڑروپے کی سبسڈی مختص،کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29فیصدپربرقرار،یوٹیلیٹی اسٹورزکیلیے5ارب50کروڑروپے کی سبسڈی ۔سماجی شعبے کی بہتری کیلیے190ارب59کروڑروپے مختص، گزشتہ مالی سال میں سماجی شعبے کیلئے 2 ارب 67 کروڑ روپے رکھے گئے تھے، افراط زرکاہدف 5 سے 7 فیصد رکھا گیا ہے، سونے،چاندی اورہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانیکافیصلہ،نان فائلر کیلئے جائیداد کی خریداری پر پابندی ختم کر دی گئی،مقررہ تاریخ کے بعدگوشوارے جمع کرانے پربھی ایکٹولسٹ میں نام شامل ہوگا،کمپنیوں کیلئے ٹیکس ریٹ 29 فیصد پر فکس کر دیا گیا، فکس ٹیکس اگلے دو سال تک برقرار رہے گا،قانونی کارروائی کیلئے اسپیشل جج کی عدالت میں مقدمہ دائر ہوگا،گوشوارے جمع نہ کرانے والے شخص کی گرفتاری بھی ہو سکے گی،ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ،بجٹ میں تعلیمی خدمات کیلیے77ہزار262ملین روپے،سماجی تحفظ کیلیے ایک لاکھ90ہزار595 ملین روپے ۔نجکاری سے150ارب روپے آمدن حاصل کرنیکاہدف،اسپیشل گرانٹس کاہدف86ہزار482ملین ،سندھ کے لیے20ہزار 400ملین، خیبرپختونخواکے لیے56ہزار82ملین مختص کیے گئے ہیں ۔