جج ارشدکی ویڈیوکی تحقیقات کےلئے تین نئی درخواستیں دائر

aiksath.com.pk

اسلام آباد (خبرنگار) سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کیلئے مزیدتین درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہیں۔

پہلی متفرق درخواست اشتیاق احمد مرزا کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس کے ساتھ ویڈیو اسکینڈل بارے اخباری تراشے جمع کراتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی عدلیہ کو معاملہ کا نوٹس لینے کا کہاگیا ہے اور استدعا کی گئی ہے کہ ویڈیو اسکینڈل سے ملک کی عدلیہ کو نشانہ بنایا گیاہے .
اس لئے اس معاملہ کی انکوائری ضرورہے ۔

دوسری درخواست سہیل اختر نامی شہری نے وکیل اکرام چوہدری کے توسط سے دائر کی ہے ، جس میں وفاق ، سابق وزیر اعظم نواز شریف، قائد حزب اختلاف میاںشہباز شریف، مریم نواز ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، جج ارشد ملک اور پیمراکو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے اورسپریم کورٹ ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری کرائے کیونکہ ویڈیو کے ذریعے عدلیہ کو بد نام کرنے کہ سازش کی گئی ہے ۔ ویڈیو اسکینڈل سائیبر لاز، نیب قانون، آرٹیکل چار، نو اور 175 اے کی خلاف ورزی ہے اور یہ ویڈیو عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش ہے اس لئے ذمہ دران کے اقدام کی سزا دی جائے۔

عدالت سے استدعاکی گئی ہے کہ پیمرا کو ویڈیو کا تمام ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔جج ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں تیسری درخواست طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں وڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعاکی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کو ارشد ملک کیخلاف کارروائی کا حکم دیا جائے اور جج ارشد ملک کیخلاف مس کنڈکٹ پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، درخواست میں حکومت، جج ارشد ملک ،مریم نواز اورناصر بٹ کو فریق بنایا گیا۔

سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد درخواست گزار سہیل اختر کے وکیل اکرام چوہدری کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ انہوںنے ویڈیو لیکس کے معاملے پر آئینی درخواست دی ہے جس میں کہا ہے کہ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں جو ویڈیو دکھائی گئی اس کا فرانزک آڈٹ نہیں ہوا۔ یہ پریس کانفرنس کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔ اس سازش میں ملوث افراد کو فریق بنایا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو سائبر اور نیب کے قوانین کے ذریعے معاملے کو پرکھا جائے۔ اکرام چوہدری نے کہاکہ درخواست میں فریقین سے جواب مانگنے کا موقف بھی درخواست میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شتیاق مرزا کی ویڈیو لیکس کی درخواست صرف توہین عدالت پر محیط ہے لیکن ھماری درخواست میں کئی آئینی اور قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس معاملہ میں پہلی آئینی درخواست بھی چوہدری اشتیاق مرزا کی جانب سے ایڈوکیٹ چوہدری منیر صادق کے ذریعے دائرکی گئی ہے جو آج سماعت کیلئے مقرر ہے ، چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا ۔ اس دورخواست میں وفاقی حکومت،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم صفدر ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور راجہ ظفر الحق ، ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اور پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے۔