مراد علی شاہ نااہلی کیس میں کچھ قانونی نکات کا فیصلہ ضروری، سپریم کورٹ

aiksath.com.pk

اسلام آباد (عابدعلی آرائیں )سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلی سندھ سیدمراد علی شاہ کی نااہلی کے لئے دائر نظرثانی درخواست کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے ، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں اور ان سے آئندہ سماعت پرجواب طلب کیا گیا ہے.

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس عمرعطابندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 14صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا ہے جس میں جسٹس عمر عطابندیال نے دو ججز کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور الگ سے تین صفحات کا اختلافی نوٹ لکھا ہے،

عدالت نے اپنے فیصلہ میں سال 2013کے عام انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے مراد علی شاہ کے کاغزات نامزدگی مسترد کئے جانے اور اس کے بعد ہائیکورٹ سے بحالی اور بعدازاںسپریم کورٹ سے نااہل کئے جانے کا الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ بحال کے حوالے سے حکم کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،

فیصلہ کے مطابق 2018کے عام انتخابات میں ریٹرننگ افسر نے مراد علی شاہ کے کاغذات نامزدگی پر درخواست گزار روشن علی برڑوکے اعتراضات مسترد کردیئے تھے جس پر درخواست گزار روشن علی نے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی بجائے رٹ کے دائرہ اختیار کے تحت سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم ہائیکورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اپیل خارج کردی تھی ،جس کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی جس میں درخواست گزار کے وکیل حامد خان ایڈووکیٹ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے چھ اگست کو عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ کے دوججز نے قراردیا ہے کہ اس کیس میں درخواست گزار کی طرف سے اٹھائے گئے قانونی نکات ایسے ہیں جن کا جائزہ لینا ضروری سے اس لئے فریقین کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ،

عدالت عظمی کے دو ججز کے فیصلہ سے جسٹس عمر عطابندیال نے تین صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ لکھا ہے جس میں انہوں نے اپیل میں اپنے تحریرکردہ فیصلہ کا دفاع کیا ہے ۔ جسٹس عمرعطابندیال نے لکھا ہے کہ اپیل میںسنائے گئے فیصلہ کے اثرات کے تحت ممبر صوبائی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 63(1c)کے تحت نااہل ہوگا ،اس فیصلہ کے تحت تاحیات نااہلی نہیں ہوگی جیسا کی آرٹیکل62(1f)کے تحت ہوتی ہے ۔

جسٹس عمر عطابندیال نے لکھا ہے کہ درخواست گزار نے اس نظر ثانی درخواست میں انتخابات کے نتائج کو متنازعہ قراردیا ہے ۔اس مرحلے پر درخواست گزار نے سابق فیصلہ میں نقائص کی نشاندہی کرناتھی فاضل جج نے لکھا ہے کہ دہری شہریت والے مقدمہ میں ارکان اسمبلی کو آئین کے آرٹیکل62(1c)کے تحت نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا نہ کی آئین کے آرٹیکل62(1f)کے تحت ۔

انہوں نے لکھا ہے کہ نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران اپیل پر فیصلہ لکھنے والے جج کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا خوش دلی سے جواب لینا چاہیئے ،اور امید ہے کہ درخواست گزار کے وکیل ان سوالات کاجواب دیں گے۔

واضح رہے کہ پہلی بار سپریم کورٹ کی طرف سے ابتدائی سماعت کا اتنا طویل حکم جاری کیا گیا ہے.