ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، سپریم کورٹ

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے متاثرین کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں واقعہ نیلور فیکٹری کے قریب پرائیویٹ تعمیرات کوفوری گرانے کا حکم دیا ہے ۔

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی دارلحکومت کے علاقے نیلور میں سٹریٹیجک مقام کے قریب پرائیویٹ تعمیرات ہٹانے کے فیصلے کے خلاف متاثرین کی درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے تمام تعمیرات فوری گرانے کا حکم دیتے ہوئے ابزرویشن دی کہ فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست نہیں سنی جائے گی بلکہ فیصلے پر عدم عمل درآمد کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریما رکس دیے کہ ملکی دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔عدالت نے نیلور فیکٹری کے قریب عمارات ہٹانے کے فیصلے پر اس کے روح کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ سی ڈی اے اور متعلقہ ادارے غیر قانونی تعمیرات فوری طور پر ختم کریں۔

چیف جسٹس نے کہا ایٹمی اثاثوں کی وجہ سے ہی پاکستان محفوظ ہے، ملکی دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

دوران سماعت عدالت نے حساس عمارت کے قریب غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سی ڈی ای غیر قانونی تعمیرات کیوں ختم نہیں کر رہا، کون ہے چئیرمین سی ڈی اے؟، کیا آپ نے غیر قانونی تعمیرات پر بم مارنا ہے۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ ابھی بلڈوزر لے کر جائیں اور جگہ کلئیر کرائیں جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہا کہ جو خلاف ورزیاں ہونا تھیں ہو گئیں، اب نہیں ہوں گی۔

عدالت نے متاثرین کی طرف سے دائر تمام درخواستیں خارج کردیں۔