مودی ہم تیار ہیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،عمران خان

aiksath.com.pk

مظفر آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ مودی ہم تیار ہیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے،آخر تک جائیں گے، اب میں دنیا میں کشمیر کا سفیر بنوں گا۔کشمیر کا معاملہ پوری دنیا میں پہنچاوں گا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بہت بڑی اسٹریٹیجک غلطی کردی جو اسے بہت مہنگی پڑے گی۔

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے سامنے اس وقت آر ایس ایس کی شکل میں ایک خطرناک نظریہ کھڑا ہے جو ہٹلر کی نازی پارٹی سے متاثر ہے، میں نے دنیا میں پہلی مرتبہ بھارتی وزیراعظم کا مکرہ اور اصل چہرہ سامنے رکھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس نظریہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں نے ان پر سیکڑوں سالوں تک حکومت کی ہے اب ان سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اگر یہ ہم پر حکومت نہ کرتے تو ہم عظیم قوم ہوتے۔انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ گزشتہ کئی سالوں سے چلتا ہوا آرہا تھا، جس میں بابری مسجد کا واقعہ بھی شامل ہیں، تاہم پچھلے 5 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں اس نظریے کو تقویت بخشی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مودی نے اسی نظریے کا استعمال کرتے ہوئے آخری کارڈ کھیل لیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس نے تاریخی اسٹریٹیجک غلطی کردی جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مودی نے کشمیر کو انٹرنیشنلائزڈ کردیا گیا ہے، اب کشمیر کا معاملہ پوری دنیا میں پہنچاوں گا اور کشمیر کا سفیر بنوں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے سب سے پہلے بھارتی آئین کو رد کردیا، آرٹیکل 370 ہمارا مسئلہ نہیں تھا یہ ان کا اپنا مسئلہ تھا، یہ لوگ سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف گئے، جموں کشمیر کے ہائیکورٹ کے خلاف گئے، جب ملک میں رول آف لا ختم ہوتو وہ تباہ ہوجاتا ہے، بھارت میں آج ججز ڈرتے ہیں، انہوں نے میڈیا پر کنٹرول کرلیا، کوئی مسلمان بات کرتا ہے تو کہتے ہیں پاکستان جا، ہندو بھی ان سے بات کرتے ڈرتے ہیں، بھارت کو یہ بہت بڑی تباہی کی طرف لے کر جارہا ہے، بھارت ایسے نہیں چل سکتا، وہاں کروڑوں مسلمان ہیں، آپ ان سے ایسے سلوک کریں گے اور ان کے حقوق ختم کریں گے تو اس کا رد عمل آئے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں مسلمان خوف میں رہ رہے ہیں، جو کہتے تھے دو قومی نظریہ درست نہیں تھا آج وہی اسے درست کہہ رہے ہیں، کشمیری رہنما انڈیا کے حامی تھے، آج فاروق عبداللہ کہہ رہے ہیں کہ قائداعظم ٹھیک تھے، اب آر ایس ایس کا جن بوتل سے نکل چکا یہ یہاں نہیں رک گا، یہ آگے جائیگا، سکھوں اور دلتوں پر مشکل وقت آئے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کا نظریہ نفرت سے بھرا ہے، یہ پاکستان کی طرف آئیگا، ہمیں اطلاعات ہیں اور ہماری فوج کو پتا ہے کہ انہوں (بھارت) نے آزاد کشمیر میں ایکشن لینے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے جس طرح انہوں نے پلواما کے بعد بالاکوٹ میں ایکشن لیا، اب انہوں نے کشمیر سے دنیا کی نظر اٹھانے کے لیے زیادہ خطرناک پروگرام بنایا ہوا ہے، مودی کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ ایکشن لیں آپ کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا، پاک فوج 20 سال سے شہیدوں کی لاشیں اٹھارہی ہے یہ وہ فوج نہیں جس نے ایکشن ہیں دیکھا، صرف ہماری فوج ہی نہیں بلکہ پوری قوم تیار ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کا جن بوتل سے نکل گیا ہے، اب یہ معاملہ سکھوں، عیسائیوں اور دلت تک جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اب فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے رہنما کہہ رہے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کا نظریہ بالکل درست تھا اور بھارت کے ساتھ جاکر بہت بڑی غلطی کی۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے دوران بھارتی وزیراعظم کو پیغام دیا کہ پاکستانی قوم اور فوج تیار ہے آپ جو کریں گے ہم آپ کا مقابلہ کریں گے اور آخر تک جائیں گے اور بھارت کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قومی غیرت ہمیں لآ اِلہ اِلا اللہ کی طاقت دیتا ہے، ہم اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔وزیراعظم نے کہا کہ اب جو جنگ ہوگی اس کی ذمہ داری بین الاقوامی برادری پر ہوگی کیونکہ جنگیں روکنا ان کا کام تھا جو انہوں نے نہیں کیا۔ یہ جو جنگ ہوگی دنیا کو بتارہے ہیں کہ آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے، وہ بین الاقوامی ادارے ذمہ دار ہوں گے جن کا کام جنگی روکنا ہے، اب اقوام متحدہ کا ٹرائل ہے ،ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا کے ہر فورم پر جائیں گے اور اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاس کے دوران دنیا دیکھے گی کہ کتنے لوگ کشمیر کے لیے باہر نکلیں گے اور احتجاج کریں گے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ہم نے اقوام متحدہ کو درخواست دے دی ہے اور اب عالمی عدالت انصاف سمیت دنیا کے ہر فورم پر جائیں گے، کشمیری کمیونٹی کو متحرک کریں گے اور لندن میں کشمیر کے لیے تاریخی لوگ نکلیں گے،جنرل اسمبلی میں وہ پبلک نکلے گی جو ان لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی، سب سے زیادہ میں اسے پروموٹ کروں گا، ہر فورم پر اٹھاوں گا، اللہ سے امید رکھتے ہی جو کشمیر میں ہوا اس کے بعد صرف یہ آزادی کی طرف جائیگا،وزیراعظم نے کہا کہ مودی کی جانب سے اپنا آخری کارڈ کھیلنے کے بعد اب کشمیر آزادی کی جانب جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اب صرف کشمیری یا پاکستانی ہی نہیں بلکہ دنیا کے ایک ارب 50 کروڑ مسلمان اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی دور اندیش سیاست پر ان کی تعریف کی۔وزیراعظم نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر مودی کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیری عوام اب ڈرتی نہیں، آپ اس کو غلام نہیں رکھ سکتے، آپ کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو آپ آزاد کشمیر میں مہم جوئی کرنے اور سبق سکھانے کا سوچ رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ آپ کو سب سکھایا جائے۔وزیراعظم عمران خان کے خطاب سے قبل آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی ترانے بجائے گئے جس کے بعد اس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور پھر بارگاہِ رِسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گلہائے عقیدت پیش کیا گیا۔اسپیکر آزاد جموں و کشمیر نے اجلاس کے آغاز میں وزیر اعظم عمران خان کی مظفرآباد آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجا فاروق حیدر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا سفر 72 سال سے نہیں بلکہ اسے 5 سو سال ہوگئے ہیں، لیکن اس کی ثقافت آج بھی قائم ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے بتایا کہ تقسیم ہند کے دوران بھی لاکھوں کشمیر مارے گئے تھے، ان پر ہونے والے ظلم کے بعد انہوں نے 1947، 1965، 1971 اور 1989 کے بعد سے اب تک 40 ہزار سے زائد کشمیری مہاجرین یہاں کیمپوں پر مقیم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں 10 ہزار سے زائد خواتین آدھی بیوہ ہیں کیونکہ وہ جانتی ہی نہیں کہ ان کے شوہر زندہ ہے یا نہیں؟ کشمیری بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جارہی ہے، بچیاں پیلیٹ گن کی فائرنگ سے زخمی انہیں نابینا کردیا گیا۔راجا فارق حیدر نے کہا کہ بھارت کے وزیر نے کشمیری لڑکیوں سے متعلق جو بات کی اس سے میرا تو خون کھولتا ہے، تاہم پاکستان کو اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر عوام اس وقت پاکستان کے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر بھارت فوجی کشمیر چھوڑ کر اپنی مغربی سرحد پر آجائیں تو طاقت کا توازن بگڑے گا۔راجا حیدر فاروق اپنی تقریر کے دوران آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ پاکستان ہماری پشت پر کھڑا ہوگا اور ہم آگے کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں مقبوضہ کشمیر میں اپنے آبائی علاقے کو دیکھنا چاہتا ہوں، ہزاروں کشمیر ایل او سی کو عبور کرنے کے لیے تیار ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے لائن آف کنٹرول کو سیز فائر لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے جلد آزاد کشمیر حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔

اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری یاسین نے سب سے پہلے عید الاضحی کے روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا کی مظفر آباد آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔چوہدری یاسین نے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے پر عزم ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جب لوگ شہید ہوتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھانے کی ضرورت ہے، اور قومی اسمبلی کے اراکین کے وفد دنیا میں بھیجے جائیں جو اس مسئلے کو اٹھائیں۔چوہدری یاسین نے وزیراعظم پاکستان سے درخواست کی وفد میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین اور آل پارٹیز حریت کانفرنس پاکستان کے اراکین کو بھی شامل کریں۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی سلامتی، بھارتی مظالم سے کشمیری عوام کی نجات اور تحریک آزادی کشمیر کے دوران شہید ہونے والوں کی بلندی درجات کے لیے دعائیں کی گئیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان مظفر آباد پہنچے تو صدر اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے ان کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے دستے نے انہیں سلامی بھی پیش کی۔مظفرآباد پہنچنے پر صدر اور وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا جہاں پولیس کے دستے نے انہیں سلامی دی۔

واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے بعد کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یوم آزادی کو ‘یوم یکجہتی کشمیر’ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تھا۔حکومت پاکستان نے یوم آزادی کے لیے کشمیر کی مناسبت سے خصوصی ‘لوگو’ بھی جاری کیا تھا۔لوگو ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ کے عنوان پر مبنی ہے، جس پر لفظ کشمیر سرخ رنگ میں لکھا گیا ہے جو جدوجہد آزادی کے دوران دی گئی قربانیوں کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستان کا پرچم مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے ہر حد تک جانے کے پاکستانیوں کے عزم کی ترجمانی جبکہ لوگو کے گرد سرخ پٹی بھارت کے غیر قانونی قبضے اور مقبوضہ وادی میں اس کے مظالم کو اجاگر کرتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم ہائوس کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان یوم آزادی اور یوم اظہار یکجہتی کشمیر میں منائیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی مرکزی جامع مسجد میں ایک ساتھ نماز عید الاضحی ادا کی تھی۔مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اقبال ظفر جھگڑا اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر بھی ان کے ہمراہ تھے
#