ریلوے کو سات ماہ میں 25 ارب خسارہ کا انکشاف، حکومت نے اضافہ کی 7وجوہات بتادیں

aiksath.com.pk

اسلام آباد :وفاقی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ بجٹ کے بعد جولائی2019سے جنوری 2020تک پاکستان ریلوے کو 25ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوا ہے ۔

نیوز اینڈ ویوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے نے گذشتہ سات ماہ کے دوران 32.424 بلین یعنی 32ارب 42 کروڑ40لاکھ روپے کمائے ہیں جبکہ اس عرصہ میں(57.855)بلین یعنی 57 ارب 85کروڑ50لاکھ روپے کے اخراجات آئے ہیں ، اس دوران حکومت نے خسارے سے نمٹنے کیلئے 22ارب75کروڑ روپے کی سبسڈی بھی دی ہے اس سبسڈی کو استعمال کرنے کے بعد بھی پاکستان ریلوے کو 2 ارب 68کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے ۔

پاکستان ریلوے کی طرف سے اس خسارے کی 7بڑی وجوہات بتائی ہیں ، ان وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ سال2019-20کے دوران تیل کی قیمت میں تقریبا16روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے ، بجلی کی فی یونٹ اوسط قیمت میں 7روپے اضافہ، گیس کی قیمتوں میں اضافہ کو بھی خسارے میں اضافے کی وجہ بتایا گیا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10فیصدجبکہ تنخواہوں میں 5 سے 10 فیصد اضافے کو بھی خسارے کی وجہ بتایا گیا ہے ،پنشن کے بند مقدمات کھولنے اورکمیوٹڈ پنشن کے پورشن کی بحالی کو بھی خساری کی بڑی وجہ بتایاگیا ہے۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجٹ فنڈز کے استعمال کے منصوبہ کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافے کی وجہ سے4ارب سے زائد کی اضافی رقم دینا پڑے گی۔ تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے 2ارب20کروڑ80لاکھ اضافی درکار ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں ا ضافے کی وجہ سے ایک ارب 22کروڑ روپے 49لاکھ روپے سے زائد کی اضافی رقم کی ضرورت ہوگی۔

یاد رہے کہ گذشتہ بجٹ میں پاکستان ریلوے کیلئے 97ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھاجبکہ 10کروڑ روپے امریکی سفارتخانے نے ریلوے پولیس کی عمارتوں کی تزین و آرائش کی مد میں بھی دیئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ریلوے کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا ۔