امریکہ، طالبان، امن مذاکرات کے ضامن ہم نہیں، شاہ محمود قریشی

aiksath.com.pk

اسلام آباد:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان امریکہ طالبان امن مذاکرات میں نہیں تھا ہم نے سہولت کاری کی اس کے ضامن ہم نہیں ہیں،امریکہ نے اس معائدے کو سیکورٹی کونسل میں لے کرجاناہے اور اقوام متحدہ سے منظور کراناہے ،کل بھی اور آج بھی ایسی قوتیں موجود ہیں جو اس کے خلاف ہیں ،امن کا راستہ بھی دشوارہوگا

وزیر خارضہ نے کہا کہ حالات خراب کرنے والے بھی موجود ہیں،پرامن ، سیاسی معاشی طور پرمستحکم افغانستان ،غیر ملکی افواج کا ذمہ دارانہ انخلا، محفوظ ریگولیٹ سرحداور افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہویہ پاکستان چاہتا ہے ۔ان خیالات کااظہاروزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ 29فروری کو دو نشتیں ہوئیں ایک دوحہ اور دوسری افغانستان میں ہوئی جس میں امید کی کرن پھوٹی ہے اس کی وجہ سے افغانستان میں امن حاصل کرنے میں کامیابی ہوگی 19سال کی طویل جنگ آسان نہیں تھی۔امن کا راستہ بھی دشوارہوگا کئی قوتیں اس راستے تو ترجیح نہیں دیتی ہیں۔افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ نہیں ہے 19سال سے اس کو استعمال کرلیا ہے اس لیے دوسرا راستہ تلاش کیا جائے اور بہترین راستہ مذاکرات ہے اس پر لوگ قائل ہوئے ۔1کھرب ڈالر سے زیادہ اخراجات اور ہزاروں جانوں کے ضیا ع کے بعد یہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اور جن کے ساتھ نشتیں ہوئی ان میں خلیج تھا  اعتماد کی کمی تھی اس کو دور کیا ۔دو فریقین گفتگو کرنے پر قائل ہوئے مگر جو مذاکرات کرے گا اس کے پاس اختیار بھی ہوگا۔کل بھی اور آج بھی ایسی قوتیں موجود ہیں جو اس کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ بے سود ہوگا ۔ حالات خراب کرنے والے بھی موجود ہیں۔طالبان ،امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں ہم اس میں سہولت کار تھے اور اس سے زیادہ ہمارا کردار نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کہتے تھے کہ جب تک غیر ملکی فوج نہیں جاتی بات آگے نہیں بڑے گی۔اس پر پیش رفت ہوئی اس پر آمادگی ہوئی کہ غیرملکی فوجیں جائیںگی ۔اب یہ ایک ساتھ نکلنا ہے اس پر فیصلہ ہونا تھا ۔ذمہ دارانہ انخلا ہونا چاہیے جس پر مناسب راستہ نکالاگیا۔135دنوں میں ایک بڑی کمک جائے گی۔14ماہ میں مکمل انخلا ہوجائے گا۔کوئی دوبارہ افغانستان کی زمین تو استعمال نہیں کرے گا ۔القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی ۔قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے دنوں فریقین اس پر عمل کریں گے

انہون نے کہا کہ افغانستان میں امن اس وقت آئے گا جب آپس میں مذاکرات ہوں اس کے لیے انٹرا افغان مزاکرات ہوں گے ۔ناروے اس کی مہزبانی کے لیے تیار ہے۔طالبان پر پابندیوں پر نظر ثانی کی جائے گی ۔امریکہ دیگر ممالک سے بات کرے گا اور طالبان رہنماں کو لسٹ سے نکالاجائے گا۔آئندہ امریکہ اور اتحادی افغانستان کے اندرونی معاملات سے پرہیز کریں گے طالبان بھی واضح پیغام دیں گے کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملے نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی دہشتگردوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے امریکہ نے اس معائدے کو سیکورٹی کونسل میں لے کرجاناہے اور اس کواقوام متحدہ منظور کریاجائے گا ۔بین الاقوامی برادری کی مہر لگ جائے گی ۔امریکہ افغانستان کی تعمیر میں معاشی مدد فراہم کرے گا ۔

انہوں نے کہاکہ افغانستان میں ایک ہفتہ کی سیزفائر ہوئی تو اس پر مکمل عمل ہوا۔اور یہ سب سے پرامن دن تھے پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان پرامن اور مستحکم ہو۔افغانستان کی تعمیر نو سے پاکستان کو بھی فائدہ ہوتا ہے دوطرفہ تجارت بڑ جائے گی امن سے نئی راہیں کھلتی ہیں۔ کاسا 1000جس سے سستی بجلی ملے گی تاپی گیس پائپ لائن بھی بن سکتی ہے جو کہ پرامن افغانستان سے ہی ممکن ہے اور خطہ آپس میں ملے گا لینڈ لاک ممالک کو گوادر تک رسائی ہوگی ۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں جو معائدہ ہوااس میں کہاکہ ہم فوجی امداد دیں گے ۔بین الاقوامی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں آپ کا ساتھ دیں گے ۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں آپ کو تعاون فراہم کریں گے ۔افغان بھائیوں کو کہاہے کہ ہم پڑوسی ہیں ہم ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں ہوسکتے ہیں ۔ ہمیں مل بیٹھ کر کام کرنا ہوگا دل صاف کرنے ہوں گے اپنے مفاد کو دیکھنا ہوگا ۔

شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان امریکہ طالبان امن مذاکرات میں نہیں تھا ہم نے سہولت کاری کی ہے اس کے ضامن ہم نہیں ہیں افغانستان کی عوام امن کی خواہش مند ہے افغانستان کی قیادت کی آزمائش ہے کہ کیا وہ امن کراسکتے ہیں کہ نہیں یہ وقت بتائے گا۔ہم چاہتے ہیں پرامن افغانستان، سیاسی اور معاشی رشتہ ہے،غیر ملکی افواج کا ذمہ دارانہ انخلا، محفوظ ریگولیٹ باڈر ہو، پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں ہوگی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس افغانستان میں نہ رہے ۔4دہائیوں سے افغانوں کو رکھا ان کو آخر گھر جانا ہے ۔ہماری کوششوں کے باوجود ایک طبقہ میں پاکستان کا منفی تاثر ہے اس کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں ۔ہماری ریڈ لائن ہیں مشترکہ آپریشن نہیں چاہتے ہیں بھارت کا افغانستان میں کردار نہیں دیکھنا نہیں چاہتے ہیں نئے مہاجرین کو پاکستان برداشت نہیں کرسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بداعتمادی کوختم کرنا ایک چیلنج ہے جو کہ امریکہ اور افغانستان کے کچھ طبقوں میں ہے ۔افغانستان میں بڑے پیمانے پر تشدد نہ ہو۔افغانستان میں سیاسی عدم استحکام ،بھی چیلنج ہے ۔اس کے ساتھ دہشت گردوں جو جیلوں میں ہیں ۔یہ کسی ایک حکومت کامسئلہ نہیں ہے آگے چیلنجز  ہیں۔