ارشد محمود ملک بطور چیف ایگزیکٹیو پی آئی اے بحال

aiksath.com.pk

اسلام آباد :عدالت عظمٰی نےایئر مارشل ارشد محمود ملک کو عبوری طور پر بحثیت چیف ایگزیکٹیو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کام کرنے کی اجازت دیدی ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرکے عبوری طور پر ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو بحثیت چیف ایگزیکٹیو پی آئی اے بحال کردیا اور آئندہ سماعت پر ایئر مارشل ارشد محمود ملک ، پی آئی اے انتظامیہ اور یونین عہدیداروں کو طلب کر لیا جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریما رکس دیے کہ جانتےہیں بہت ساری لابیز پی آئی اے کے خلاف کام کررہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کراچی ایئر پورٹ پر ایک شخص پر تشدد کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا ہر برا کام ایئر پورٹ پر جاری ہے، ایئرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے سمیت تمام ادارے مافیا ہیں، ایئرپورٹ پراداروں کے لوگ عام عوام کی تضحیک کے لئے بیٹھے ہیں ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت بیس اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے پی آئی اے سے ارشد ملک کے دیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات طلب کیں اور ہدایت کی کہ پی آئی اے انتظامیہ عدالت کو آگاہ کرے کہ کن ٹھیکوں کا جاری رہنا ضروری ہے۔

عدالت نے سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے پیش ہوکر ایئر مارشل ارشد محمود ملک کی تعیناتی کا دفاع کیا اور کہا کہ ایئر مارشل ارشدملک اچھے اور قابل انسان ہیں، ان کے آنے سے ادارے کے مسائل حل ہونے کی توقع ہے۔اٹارنی جنرل نے پی آئی اے میں موجود خرابیوں کی بھی نشاندہی کی اور ادارے کےدرخشندہ ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی اہلیہ نے جب پی آئی اے پر سفر کیا تو انھوں نے بھی فلائٹ کو بہترین قرار دیا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت پی آئی اے کا انتظام ایئرمارشل نورخان اور ایئر مارشل اصغر خان جیسے لوگوں کے ہاتھ میں تھا لیکن ان منظم لابیز ادارے کو چلنے ہی نہیں دے رہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، کیا اس کو بند کر دیں۔جس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا انشا ء اللہ ا رشدملک ایئر لائین کو آگے لے جائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا ماشاء اللہ، سبحان اللہ اور الحمد اللہ سے کام نہیں چلے گا بتائے ادارے کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا پی آئی اے کے اندر بھی لابیز ہیں جو اس کو چلنے نہیں دیتا۔جواب میں اٹارنی جنرل نے پی آئی اے یونینز کی چیرہ دستیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں پی آئی اے کے 12چیف ایگزیگٹو آچکے ہیں اگرادارے کا کنٹرول یونین کے ہاتھوں میں دے دیا جائے تو ادارہ تباہ ہوجاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابق چیف آف ایئراسٹاف کو یونین نے کمرے میں بند کردیا تھا اورانھیں اپنی مدد کے لئے دوستوں سے مدد لینی پڑی۔ جس پر جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ پائلٹ یونین اور پی آئی اے یونین کی کھینچا تانی سے پی آئی اے ہی متاثر ہورہا ہے۔ فاضل جج نے کہا وہ اقدامات اٹھائیں جو سیاسی حکومتیں نہیں لیتیں،اگر اقدامات لئے جاتے تو ایئر لائین کا یہ حال نہ ہوتا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ایک حکومت آتی ہے وہ 600 لوگوں بھرتی کردیتی ہے،دوسری حکومت بھی اتنے لوگوں کو بھرتی کرتی ہے، تیسری حکومت جب آتی ہے تو سب کو نکال دیتی ہے، بعد میں سابقہ حکومت آکر نکالے گئے ملازمین کو گزشتہ مراعات دے کر دوبارہ بحال کردیتی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آج پی آئی اے کو چلانے کے لئے حکومت خسارہ برداشت کررہی ہے، موجودہ ایم ڈی کو عہدے پر برقرار رکھنے میں ان کی ذاتی کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی اس معاملے کو طول دینا چاہتے ہیں مقصد ادارے کو مسائل سے نکالنا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ہم کیا کریں آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا چاہتے ہیں عدالت کیس کا جلد فیصلہ کرے، ارشد ملک نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے احترام میں واپس چلا جاتا ہے لیکن وزیراعظم نے کہا کہ یہ افسر اگر واپس چلا گیا تو کوئی اور قابل افسر پی آئی اے میں دلچسپی نہیں رکھے گا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا ایئرفورس کے افسران اپنے پیاروں کاخیال رکھے اور ان پرکام کرے، ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص کو کراچی ایئرپورٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیااٹارنی جنرل صاحب آپ نے وہ ویڈیو دیکھی؟، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وڈیو دیکھ کر افسوس ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا ہر برا کام ایئر پورٹ پر جاری ہے، ایئرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے سمیت تمام ادارے مافیا ہیں، ایئرپورٹ پراداروں کے لوگ عام عوام کی تضحیک کے لئے بیٹھے ہیں، کوئی ایک اچھی چیزبتادیں جوعوام کےحق میں کی گئی ہو، کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔ طویل سماعت کے بعد عدالت نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرکے ایئر مارشل ارشد محمود ملک کو بطور چی ای او پی آئی اے عبوری طور پر بحال کردیا۔