سپریم کورٹ ، جسٹس قاضی فائزعیسی کیس کی 36 ویں سماعت آج ہوگی

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ اپنے ہی جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی36ویں سماعت آج پھر کرے گی ۔

یہ خبربھی پڑھیں: کیا شواہد کے بغیر ججوں کی جائیدادوں کی انکوائری عدلیہ کی آزادی میں مداخلت نہیں؟ سپریم کورٹ https://www.aiksath.com.pk/breaking/6498

جسٹس قاضی فائز عیسی کا تعلق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان سے ہے تاہم رقبے کےلحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی اپنے ایک منفردموقف کی وجہ سے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان دونوں ججز میں مشترک بات یہ ہے کہ دونوں کا تعلق ایک ہی صوبہ بلوچستان سے ہے۔

مستقبل میں موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کے بعد چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے والے فاضل جج جسٹس عمر عطا بندیال اس فل کورٹ بینچ کی سربراہی کررہے ہیں جو جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کی سماعت کررہا ہے۔ اگرجسٹس قاضی فائز عیسی اس ریفرنس کے ذریعے منصب سے ہٹائے نہ گئے تو جسٹس عمر عطابندیال کے بعد چیف جسٹس بنیں گے۔

یاد رہے کہ ایک عادی درخواست گزار عبدالوحید ڈوگر کی جانب سے بھجوائی گئی درخواست پر حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کے توسط سے یہ ریفرنس دائرکررکھا ہے۔ جس میں جسٹس قاضی فائزعیسی پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ریفرنس پر کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری تھی کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس کارروائی کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کردیا توطویل عرصہ سے یہ کیس جاری ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف تیسرا ریفرنس دائر کردیا گیا https://www.aiksath.com.pk/pakistan/2378

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر،جسٹس منظور احمد ملک،جسٹس فیصل عرب،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل،جسٹس سجاد علی شاہ،جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس قاضی محمد آمین احمد پر مشتمل دس رکنی فل کورٹ بینچ نےتین مہینے دس دن کے طویل وقفے کے بعد دوجون 2020 بروز منگل کوصدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی آئینی درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع کی ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسی کے والد قاضی محمد عیسی تحریک آزادی پاکستان کے اہم رہنما وبانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے اور پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے۔

منگل کو ہونے والی 35 ویں سماعت کے دوران حکومتی وکیل سابق وزیرقانون بیرسٹرفروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ میں بھی مقدمے کا فریق ہوں اور میری وکالت عرفان قادر کریں گے جبکہ فریق ضیا مصطفٰی کی نمائندگی وکیل خالد رانجھا اور اور صدر مملکت کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن اور سہیل محمود کریں گے۔