فیاض الحسن چوہان کا حامد میر کے والد پر ملک سے غداری کا الزام

aiksath.com.pk

اسلام آباد : صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ویڈیو پیغام میں اینکر پرسن حامد میر کے والد پروفیسر وارث میرپر ملک سے غداری اور بنگلہ دیش کی حمایت کا الزام لگا یا ہے اور وزیراعلی پنجاب کے والد کے نام پر بننے والے ہسپتال پر تنقیدی پروگرام کرنے پر اینکر محمد مالک اور حامد میر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیاہے ۔

ایک خبر رساں ادارے کے مطابق فیاض الحس چوہان کی ویڈیوسامنے آنے پر معروف صحافی و تجزیہ نگار حامد میر نے صوبائی وزیراطلاعات کے ویڈیوبیان پر ردعمل میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان نے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پروفیسروارث میر نے کبھی بنگلہ دیش کی حمایت نہیں کی ۔یہ امر بھی واضح ہے کہ  پروفیسروارث میر نے کبھی خود کوئی ایوارڈ وصول نہیں کیا ۔

خبر کے مطابق تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ جب بنگلہ دیش قائم ہوا تو اس وقت پاکستان میں مارشل لا نافذ تھا اور پروفیسر وارث میر ایک سرکاری ملازم تھے اور یہ ممکن نہیں تھا کہ کسی بھی اخبار میں بنگلہ دیش کی حمایت کی جاسکتی کیونکہ تمام اخبارات فوج کے کنٹرول میں تھے ۔ وارث میر کو2012میں فرینڈز آف بنگلہ دیش کا ایوارڈ اس وجہ سے دیا گیا تھا کیونکہ وہ اس وقت کی حکومت کی منظوری سے پنجاب یونیورسٹی کا ایک وفد لے کر ڈھاکہ گئے تھے۔

خبر کے مطابق سال 1971میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن حفیظ خان پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے اور مخدوم جاوید ہاشمی یونین کے سیکرڑی جنرل تھے اور یہ دونوں رہنما بھی اس وفد میں شامل تھے جو پروفیسر وارث میر کی سربراہی میں ڈھاکہ گیا ، ان دونوں شخصیات نے لکھا ہے کہ پروفیسر وارث میرپاکستان سے سچا پیار کرنے والی شخصیت تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  تاریخی حقائق سے یہ بات واضح ہے کہ جب معروف اینکر پرسن حامد میر 2012میں بنگلہ دیش گئے تو۔پاکستان کا مقدمہ بنگلہ دیش کے ٹی وی چینلزپر خوبصورتی سے پیش کرتے رہے انہوں نے بلا خوف و خطر بڑی جرآت کے ساتھ وہاں پاکستان کا موقف رکھا ۔ حامد میر نے مکتی باہنی (جس نے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا)  کے مقابلے میں جماعت اسلامی اور دیگر ان قوتوں کی تعریف کی جنھوں نے پاکستان کو یک لخت رکھنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ حامد میر نے پاکستان کے موقف اور کردار کی بھی تعریف کی ۔حامد میرنے متعدد بار بنگلہ دیشی ٹی وی چینلز پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قائد پروفیسر غلام اعظم کو ہونے والی سزا کی بھی مخالفت کی۔