پشاور بی آر ٹی کیس میں ایف آئی اے کو منصوبہ کی تحقیقات سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع

aiksath.com.pk

اسلام آباد : سپر یم کورٹ نے صوبائی دارالحکومت پشاورمیں عرصہ دراز سے زیر تعمیرمیٹرو بس سروس منصوبہ ( بی آر ٹی) سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کو منصوبہ کی تحقیقات سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے ۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اس چیز کا جائزہ لیا جائے گا کہ پشاور میٹر منصوبہ شفافیت ، مفادات کے ٹکراو اور منصوبہ سازی کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا یا نہیں ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سر برا ہی میں تین رکنی بینچ نے کیس ی سماعت کی ۔ یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو منصوبہ کی تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے ۔ سماعت کے آغا زپر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ سماعت کے حکم کے مطابق پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تمام تفصیلات عدالت میں جمع کروا دیں ہیں ا ور درخواست گزاروں کی شکایت کے مطابق انکی پرائیویسی کے مد نظر اقدامات بھی کر لئے گئے تاہم آج کیس کے اہم وکیل مخدوم علی خان موجود نہیں اس لئے سماعت ملتوی کی جاے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کے پی حکومت کی اپیل کو زیادہ عرصہ حکم امتناع میں نہیں رکھنا چاہتے، اس لئے کے پی حکومت بی آرٹی کیس چلائے،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا دوران سماعت کیس میں جائیزہ لیں گے کہ بطور عدلیہ منصوبے کے حوالے سے مخصوص چیزوں کا جائزہ لینا ہے بی آرٹی منصوبہ کی شفافیت کا جائزہ لیں گے،منصوبہ کا تعمیراتی ٹھیکہ کیسے دیا گیا؟منصوبہ میں کہیں مفادات کا ٹکراو تو نہیں؟ کے پی حکومت نے کہیں ادھورے یا بغیر پلاننگ کے منصوبہ پر اربوں تو خرچ نہیں کر دیئے؟ منصوبے میں غلطیوں کے ازالہ کے معاملہ بھی دیکھیںگے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہااس بات کا بھی جائیزہ لیں گے کہ منصوبہ کہیں بغیر تیاری کے شروع تو نہیں کیا گیامنصوبے کے ڈیزائین بار بار عوام کے پیسہ سے تبدیلی گئی منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر کا جائزہ بھی لیں گے جس کے بعد عدالت نے حکم امتناع میں مزید تو سیع اور فریقین کو رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔