قاضی فائز عیسی کیس 43 ویں سماعت، عدالت سرینا عیسی کے جواب سے مطمئن لیکن انکم ٹیکس یا سپریم جوڈیشل کونسل جانا ہوگا

aiksath.com.pk

اسلام آباد(خبر نگار)ریفرنس کیس میں حکومتی وکیل کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے ویڈیو لنک پر اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ جائداد خریدنے کے لئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ذریعے سات لاکھ پائونڈ بیرونی ملک منتقل کئے گئے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ کی طرف سے منی ٹریل اور آمدن کے ذرائع پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ اس معاملے کو میرٹ پر نہیں دیکھ سکتے جبکہ سرینا قاضی کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میرٹ پر معاملہ دیکھنے کے لئے آپ کو انکم ٹیکس یا پھر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جانا ہوگا ۔بیان ریکارڈ کراتے وقت جسٹس قاضی کی اہلیہ نے انکم ٹٰکس حکام پر بدسلوکی کرنے اور بیٹے کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا جبکہ جسٹس بندیال نے کہا کہ جج کسی بھی سرکاری عہدیدار سے زیادہ جواب دہ ہیں۔ دوران سماعت عدالت نے ملک میں جاری احتساب کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے اور آبزرویشن دی کہ اس بارے فیصلے میں لکھا جائے گا۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ انجینرنگ کے الزامات لگتے ہیں ،مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ہو سکتا کہ اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں ، ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے،احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے۔ جمعہ کو کیس کی سماعت کے آغازمیں عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو ویڈیو لنک پر بیان دینے کی اجازت دے دی۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہم جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے گھر پر ویڈیو لنک انتظامات کروا رہےدوپہر کو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا بیان لیں گے لیکن ہماری درخواست ہے اہلیہ مختصر بات کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور عدالت میں اہلیہ بیان دیتے وقت مناسب الفاظ کا استعمال کریں، فاضل جج کی اہلیہ عدالتی ڈیکورم کا خیال رکھیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ ہمارے سامنے فریق نہیں ہیں۔حکومتی وکیل فروغ نسیم نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ جوڈیشل کونسل فوجداری اور دیوانی حقوق کا فیصلہ نہیں کرتی،جوڈیشل کونسل فیکٹ فائینڈنگ فورم ہے جو اپنی سفارشات دیتا ہے،جبکہ بدنیتی پر فائینڈنگ دینے پر کونسل کے سامنے کوئی چیز مانع نہیں ہے ۔ جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے کیونکہ جوڈیشل کونسل کے سامنے تمام فریقین ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ عدلیہ پر چیک موجود ہے کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااحتیار ہے،عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیاکہ کیا عدالت اور کونسل کے بدنیتی کے تعین کے نتائج ایک جیسے ہوں گے۔ اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل بدنیتی پر ابزرویشن دے سکتی ہے اورعدالت کو بدنیتی پر فیصلہ دینے کا اختیار ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کیا کونسل صدر مملکت کے کنڈکٹ کا جائزہ لے سکتی ہے؟۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ کونسل کسی کے کنڈکٹ کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، کیونکہ کونسل کے پاس ہر اتھارٹی ہے، اس دوران جسٹس سجادعلی شاہ نے استفسار کیاکہ کیا عدالت عظمیٰ کے بدنیتی کے معاملے کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ ہے؟ تو فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے راستے میں بدنیتی کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔فروغ نسیم کا دلائل میں کہنا تھا کہ شو کاز نوٹس میں 3 نکتے جوڈیشل کونسل نے شامل کیے، جوڈیشل کونسل نے ریفرنس کا جائزہ لیکر الزام کے تین نکات نکالے اور عدلیہ کو شوکاز نوٹس کے مواد کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطابندیال نے سوال اٹھایا کہ آپ نے اس دلیل کی سپورٹ میں آرمی چیف کیس کا حوالہ کیوں دیاا؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ آرمی چیف کا مقدمہ درخواست واپس لینے کی استدعا کے باوجود بھی چلا،۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا کہ یہ آرڈر 23 کا اصول ہے درخواست عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں لی جا سکتی، کیا ریفرنس کالعدم ہو جائے تو پھر بھی اپنی جگہ زندہ رہے گا؟۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ میری بصیرت کے مطابق یہی دلیل ہے ریفرنس کے بعد بھی شو کاز نوٹس ختم نہیں ہوتا ،سپریم کورٹ نےازخود نوٹس کا حکم پاس نہیں کیا لیکن آرمی چیف کا مقدمہ چلا ۔جوڈیشل کونسل تمام 28 سوالات پر ابزرویشن دینے کی مجاز ہے۔ فروغ نسیم نے دعوی کیاکہ فاضل جج تحریری جواب دیکر جوڈیشل کونسل کے سامنے سرنڈر کردیا، صدر مملکت کی رائے کا کونسل جائزہ لے سکتی ہے لیکن صدر مملکت کی رائے کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوتی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ اس معاملہ میں اعتراض یہ ہے کہ ریفرنس میں قانونی نقائص اور بدنیتی ہے۔فروغ نسیم نے جواب دیا کہ قانون کہتا ہے کہ کم معیار کے ساتھ بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ آپ کے مطابق عدالت عظمیٰ کے جج کے ساتھ کم معیار کے ساتھ کام چلایا جائے؟۔ فروغ نسیم نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 209 میں شاید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا تھا کہ جج کو ہٹانے کی کارروائی میں شواہد کا معیار دیوانی مقدمات جیسا نہیں ہونا چاہیے؟ جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کے لئے ٹھوس شواہد ہونے چاہیئں، پلیز مثال دیتے ہوئے احتیاط کریں کیونکہ عدالت یہاں آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہریفرنس کے مواد پر انحصار کرکے شوکاز نوٹس جاری ہوا،ریفرنس کے معاملے پر صدر کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل اپناذہن اپلائی کرتی ہے، کونسل شوکاز نوٹس کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ریفرنس کا جائزہ لیتی ہے،جج کیخلاف کارروائی کے لیے شواہد کا معیار کیا ہو یہ کونسل پر چھوڑ دینا چاہیے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ریفرنس میں محض دستاویزات لف نہیں ہونی چاہیے،ریفرنس کے ساتھ الزام ثابت کرنے کے ٹھوس شواہد بھی ہوں۔ فروغ نسیم کاکہنا تھا کہ شواہد اگر تسلم شدہ ہوں تو حقائق کا ایشو نہیں ہوتا، کسی مقدمے میں شواہد تسلیم نہ کیے جائیں تو بات اور ہے،کسی دباؤ کے تحت کوئی مواد لیا جائے توعدالت قبول نہیں کرتی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ اس مقدمے کا مواد، دستاویزات کیسے اکھٹی ہوئیں؟اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے وکیل منیر اے ملک کمرہ عدالت میں آئے تو بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے منیر اے ملک کو خوش آمدید کہا فاضل جج کا کہنا تھا منیر اے ملک ویلکم،آپ کو کمرہ عدالت میں دیکھ کر اچھا لگا۔ اسی دوران عدالت نے کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو فروغ نسیم کا دلائل جاری رکھتے ہوئے کہنا تھا کہ تشدد کے بغیر حاصل مواد قابل قبول دستاویز ہیں امریکہ میں چوتھی ترمیم کے مطابق شواہد کی تلاش قانونی ہیں ،پاکستان اور بھارت میں امریکہ کی چوتھی ترمیم جیسی مثال نہیں ہے ، برطانیہ میں جاسوسی اور چھپ کر تصویر بنانے کو قابل قبول شواہد قرار دیا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئین آزادانہ نقل و حرکت ،وقار ، ذاتی عزت و تکریم کا تحفظ فراہم کرتا ہے،ہمارے ملک میں ایف بی آر، نادرا ، ایف آئی اے جیسے دیگر ادارے موجود ہیں آپ کہہ رہے ہیں میری جاسوسی ہو سکتی ہے ، میں گالف کلب جاتا ہوں میری تصاویر لی جاتی ہیں، یہ تو ایسے ہی ہو گا جمہوریت سے فاش ازم کی طرف بڑھا جائے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ میں فاش ازم کی بات نہیں کر رہا ، یہاں بات شواہد کے اکھٹا کرنے کی ہو رہی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اس سے غرض نہیں کہ پبلک ڈومین میں جائیدادیں پڑی ہیں یا نہیں ، ان جائیدادوں کو ڈھونڈنے کے اختیارات کہاں سے لیے گئے، سوال یہ ہے کہ کس طرح سے پتہ چلا کہ لندن میں جائیدادیں ہیںآؤ جائیدادیں ڈھونڈیں ، آؤ جائیدادیں ڈھونڈیں کا اختیار کہاں سے حاصل کیا گیا ؟۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ صحافی کی طرف سے معلومات آ گئیں تو اسکی حقیقت کا پتہ چلایا گیا ۔ اس پر فروغ نسیم نے کہاکہ صحافی نے کوئی آرٹیکل نہیں لکھا جس کا وہ سورس چھپائے ،صحافی آرٹیکل یا خبر دیں تو سورس نہیں پوچھ سکتے ، میری تشویش یہ ہے کہ شواہد کی سرچ کیسے کی گئی ؟ یہ کوئی نہیں کہتا کہ جج جوابدہ نہیں ہے،جج چاہتا ہے کہ میری پرائویسی بھی ہو اور میری عزت کا خیال بھی رکھا جائے جبکہ میں تو کہتا ہوں جو کرنا ہے قانون کے مطابق کریں ۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ پرائیویسی کا حق محدود ہے جس پر ، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ جمہوری معاشروں میں قانون ترقی کرتا ہے ، جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ضیا المصطفی نامی شخص کے پاس اختیار نہیں تھا کہ نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرے ،شکایت کنندہ کی درخواست میں صرف ایک جائیداد کا ذکر تھا صدر مملکت کی منظوری کے بغیر کسی جج کے خلاف مواد اکھٹا نہیں ہو سکتا ۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے تمام جائیدادوں کی تفصیل ڈال دی ہے ، جج نے بھی تسلیم کیا کہ برطانیہ کی جائیداد ویب سائٹ پر موجود ہے ، برطانیہ کی جائیداد کی درست معلومات کے لیے لینڈ رجسٹری کی ویب سائٹ استعمال کی جاتی ہے ،ویب سائٹ سے معلومات لینے سے سکریسی کے حق کا اطلاق نہیں ہوتا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ فاضل جج کی اہلیہ کا درست نام ہمیں معلوم نہیں ،حکومت کو اہلیہ کے درست نام کا کیسے پتہ چلا ؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اختیار کدھر سے آیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیاکہ کیا حکومت نے وحید ڈوگر سے پوچھا کہ وہ معلومات کدھر سے لے کر آئے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال کیا کہ وحید ڈوگر کو کیسے پتہ چلا یہ جائیدادیں گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئیں؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وحید ڈوگر کو یہ معلومات کدھر سے ملیں، آرٹیکل 184 تین کے مقدمے میں عدالت معلومات کا سورس نہیں پوچھتی۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ جج کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی نظروں میں ہے ، ہم ججز کو اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے ،آپ کی ناک کے نیچے ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں کیا ہوتا ہے آپ کو علم نہیں؟، اس شریف آدمی کا ماضی اچھا نہیں تھا، میں احتساب عدالت کے جج کی بات کر رہا ہوں، حکومت کے پاس بڑے وسائل ہوتے ہیں لیکن اس معاملے پر عدالت کو ایکشن لینا پڑا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ جو احتساب کے نام پر اس ملک میں ہو رہا اس پر بھی لکھیں گے، تمام کارروائی کے بعد ڈوگر کو لاکر کھڑا کردیا گیا، میں اپنی تفصیلات آرام سے نہیں لے سکتا تو ایک جج کی تفصیلات وحید ڈوگر کے پاس کیسے آئیں؟، جسٹس یحیی آفریڈی نے کہاکہ ایشو یہ ہے کب حکومت نے گوشوارے مانگے؟ ۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ میں نے کسی سے گوشوارے نہیں منگوائے،ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجا۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ انجینرنگ کے الزامات لگتے ہیں ،مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ہو سکتا کہ اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں ، ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے،احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے۔، جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے پاس نئی وزارت بنانے کا اختیار ہے ، وزیر اعظم کے پاس نئی ایجنسی بنانے کا اختیار کدھر ہے ؟ اس پر فروغ نسیم نے کہاکہ وزیر اعظم کو کوئی بھی چیز کابینہ کو بھیجنے کا اختیار ہے ۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ اے آر یو وفاقی حکومت کیسے ہو گئی؟ اے آر یو نے ایف بی آر سے ٹیکس سے متعلق سوال کیسے کیا ؟۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اے آر یو کسی شہری کو قانون کے بغیر کیسے ٹچ کر سکتا ہے؟ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ وزیر اعظم کے اختیارات کسی قانون کے مطابق ہوں گے۔فروغ نسیم نے جواب دیا کہ پراپرٹیز کی معلومات اوپن سورس سے آئی ہیں، برطانیہ کہتا ہے جائیداد کی معلومات اوپن ہے ہم سکریسی کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں،جو معلومات عوام کی دسترس میں ہو وہ خفیہ نہیں ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ جائیداد کی معلومات کس طریقے سے حاصل کی گئی۔ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جائیداد کی معلومات کوئی سکریسی نہیں ہے، مولیٰ علی کے مطابق جج کی سرگرمیاں جاننے کے لیے انہوں نے جاسوسی کا نظام بنایا تھا، قاضیوں کے معاملات کی خبر گیری اسلامی تاریخ سے بھی رکھی جاتی تھی،اسلامی قانونی نقطہ سے ہم اپنی آنکھیں موڑ نہیں سکتے، آئین کہتا ہے کہ تشریح کے لیے اسلامی شریعت کو دیکھا جائے۔انھوں نے کہا عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق سے بھی کرتے کے بارے میں پوچھا گیا تھا،ہم میں سے کوئی حضرت عمر اور حضرت علی سے بڑا نہیں۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ کسی قسم کی منی ٹریل نہیں دی گئی،عدالت نے ایف بی آر کو بھیجنے کی تجویز دی تو انکار کر دیا گیا۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ درخواست گزار کہتے ہیں کہ دھرنا فیصلے کیوجہ سے کچھ حلقے خوش نہیں دھرنا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ الزام ہے کہ نظر ثانی مقدمے میں جج کو ہٹانے کی بات کی گئی۔ جسٹس عمر عطابندیال نے سوال اٹھایا کہ کیا دھرنے کے حوالے سے مقدمہ میں فیصلے سے آسمان گر پڑا؟ اگر نظر ثانی خارج ہوتی ہے تو کیا آسمان گر پڑے گا؟۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ہماری ذہنیت یہ بن چکی ہے ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے،اپنا کام کرنے کی بھی آزادی نہیں دی گئی ہے۔ اس پر فروغ نسیم نے کہاکہ درخواست گزار کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، مجھ پر اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور پر لگائے جانیوالے الزامات غلط ہیں اور صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا درست نہیں ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ بدنیتی میں پس پردہ مقصد ہونا چاہیے ،پس پردہ ایسا مقصد جو قانون سے باہر ہو ،قانون میں کچھ اقدام ہیں جو بدنیتی پر انحصار کرتے ہیں، بدنیتی آسانی سے ثابت نہیں ہو سکتی ہے،حکومت کی بدنیتی نظر آئے گی جب قانون سے باہر کام ہو گا، لگتا ہے کچھ الماری میں پڑا تھا جس کے استعمال کرنے کا انتظار تھا ،۔ فروغ نسیم نے کہاکہ وحید ڈوگر کی شکایت میں تین ججز کے خلاف الزام تھا اوریہ دلیل درست نہیں کہ ریفرنس کی منظوری کابینہ سے لینا ضروری تھی آرٹیکل 209 میں وفاقی حکومت کا ذکر نہیں ہے۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ درخواست گزار کی دلیل ہے کہ جج کو ہٹانے کا معاملہ بڑا سیریس ایشو ہے ،دلیل دی گئی یہ معاملہ کابینہ میں جانا چاہیے تھا فروغ نسیم نے کہاکہ جج کی تقرری کا جائزہ کابینہ نہیں لیتی ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ جج کی تقرری کا طریقہ ہی مختلف ہے اس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کے پابند ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ یہ دلیل تسلیم کرلیں تو صدر مملکت کے اعتراض پر دوسری مرتبہ ایڈوائس کی کیا ضرورت ہے؟ریفرنس کی سمری پر رائے صدر مملکت نے آزادانہ طور پر طے کرنی ہے۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ سیکرٹری قانون سے لے کر اوپر تک سب نے اپنا مائنڈ اپلائی کیا ۔ اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ہے، صدر مملکت صرف اپنا ذہن اپلائی کرتے ہیں ، صدر مملکت کے سامنے کوئی مواد نہیں تھا ، الزامات پر مبنی دستاویزات تھیں۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ہم نے آج جج صاحب کی اہلیہ کا موقف بھی سننا ہے ، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھاکہ عدالت کا حکم میں نے پہنچا دیا تھا، اہلیہ الزامات کے حوالے سے جواب دیں گی ، امید کرتا ہوں اہلیہ کا جواب زیادہ طویل نہیں ہو گا۔ جسٹس عمر عطابندیال نے سوال کیاکہ کیا فاضل جج کی اہلیہ صرف جائیداد کے حوالے سے جواب دیں گی؟ منیر ملک نے کہاکہ فاضل جج کی اہلیہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں گی تاہم میں فاضل جج کی اہلیہ کا وکیل نہیں ہوں میری حیثیت پیغام رساں کی ہے۔عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے قراردیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ ساڑھے تین بجے بیان ریکارڈ کروائیں گی۔وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں، جب بات آرٹیکل 209 کی آئے گی تو صدر مملکت کو اپنی رائے بنانی ہوگی۔ فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام حکومت ایسے نہیں چلتا،سمری سیکرٹری قانون کی طرف سے تیار کی جاتی ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس سے متعلق سمری بڑی جامع ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم کی ایڈوائس سے صدر مملکت اختلاف کر سکتے ہیں؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہ صدر مملکت معاملے کا دوبارا جائزہ لینے کے لئے واپس بھیج سکتے ہیں لیکن صدر مملکت وزیر اعظم کی ایڈوائس سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ فروغ نسیم نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کے مقدمے میں فون ریکارڈ ہو رہا تھا، یہاں تو کسی جج کی جاسوسی نہیں کی گئی،نہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جاسوسی ہوئی نہ ہی کسی اور جج کی،ریفرنس اور شوکاز نوٹس میں اینٹی منی لانڈرنگ قانون کی بات نہیں کی گئی۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ہندی حوالہ سے پیسہ باہر جاناجرم ہے ،سٹیٹ بنک کے سرکلر حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر جانے کو منی لانڈرنگ قراردیتے ہیں، قانون میں ایک تصور جرم کے تسلسل کا بھی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ منی لانڈرنگ کا جرم تسلسل جرم کب ہو گا ، برطانیہ اور پاکستان کی منی لانڈرنگ رجیم میں بہت فرق ہے۔ جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں، ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں، کرنسی کو تبدیل کروائیں ، فارن اکاؤنٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں۔ فروغ نسیم نے کہاکہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں منی لانڈرنگ کو 1998 سے جرم کہا گیا، میں عدالتی فیصلے پڑھ کر ایجوکیٹ ہو رہا ہوںہم منی لانڈرنگ کی نہیں منی لانڈرنگ رجیم کی بات کر رہے ہیں،اس وقت کے قوانین ہنڈی حوالہ کی صحیح وضاحت نہیں کر پائے ۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ منی لانڈرنگ کونسی رجیم باؤنڈ ہے ،قانون کے نقص پر کسی عمل کو جرم تو نہیں کہہ سکتے۔جسٹس مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے کوئی بینک ٹرانزکشن نہیں جس پر الزام دے سکیں، فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اس لیے تو کہہ رہے کہ انکوائری ہو جائے،20 مئی سے 28 مئی تک میڈیا پر ریفرنس کی کوئی خبر نہیں تھی، سابق چیف جسٹس کہہ چکے ہیں انہوں نے ریفرنس جج صاحب کو پڑھنے کے لیے دیا، میرے حساب سے جج صاحب صاف ہاتھوں سے عدالت نہیں آئے، جج صاحب نے صدر مملکت کو خط لکھے اورریفرنس کی خبر میڈیا کو حکومت نے لیک نہیں کی،سابق چیف جسٹس نے ریفرنس پڑھنے کے لیے جج صاحب کو دیا،جج صاحب نے ریفرنس پڑھا اور نوٹس بھی لیےمیں بینک کے زریعے رقم باہر بھیجوں اور جائیداد خریدوں تو ظاہر کروں گا۔ فروغ نسیم نے کہاکہ اپنا خط بھی خود لیک کیا گیا،جج صاحب نے ریفرنس پڑھنے کے انکم ٹیکس قانون کے مطابق جائیداد خریداری کے ذرائع بھی بتانے لازم ہیں باوجود خط میں لکھا مجھے تو ریفرنس کا معلوم ہی نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومتی وکیل فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے فروغ نسیم سے استفسار کیاکہ وہ اپنی تحریری معروضات کب عدالت کودیں گے ، فروغ نسیم نے جواب دیا کہ تحریری معروضات کے لیے چار پانچ دن لگیں گے۔ فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہونے پر حکومت کی طرف سے صدر ، وزیر اعظم، دیگر فریقین کے وکلا نے ان کے دلائل اپنا لئے اس دوران جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اب جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا موقف سنیں گے،ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خاوند سے کہا مجھ سے کیوں نہیں پوچھا جارہا، موقع دینے کا بہت بہت شکریہ آپکی شکرگزار ہوں اور ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میرے خاوند نے مجھے کہا ریفرنس میرے متعلق نہیں ہے ،میرے لیے یہ بڑا مشکل وقت تھا ،میرے والد قریب المرگ ہیں ، میری شادی 25 دسمبر 1980 کو ہوئی ، اس دوران فاضل جج کی اہلیہ نے اپنا برتھ سرٹیفکیٹ اور اپنا پرانا شناختی کارڈ بھی دکھاتے ہوئے کہاکہ میرا نام سرینا ہے ،1983 میں مجھے نہیں معلوم تھا کہ 21 سال بعد لندن میں جائیداد خریدوں گی ، شادی کے اکیس سال بعد میں نے لندن میں جائیداد خریدی میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 میں بنا ،اسوقت میرے خاوند جج نہیں تھے ، میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا دوسرا ویزا جب جاری ہوا وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے ۔جنوری 2020 میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا،یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے ہراساں کیا گیا،مجھے ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا ۔انھوں نے کہا ایسا کیس بنایا جیسے میں ماسٹر مائنڈ کریمنل ہوں پہلا کارڈ زائد المیاد ہونے پر دوسرا کارڈ بنوایا میرا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسیٰ ہے، میری والدہ سپینش ہے،اس لئے میرے پاس سپینش پاسپورٹ ہیں مجھے الزام دیا گیا کہ میں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا جبکہ میرا خاوند وکیل تھا،مجھے پاکستان کا پانچ سال کا ویزا جاری ہوا ۔قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ موقف دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں،پانچ سال کا ویزا اس وقت ملا جب میرا خاوند جج نہیں تھے۔سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ نھوں نے پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی، برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا میں کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی اور ریحان نقوی میرے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے ،ٹیکس گوشوارے کرانے پر حکومت نے مجھے ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا اورمیرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ زرعی زمین کی دیکھ بھال میرے والد کرتے تھے،ریحان نقوی نے ایڈوائس کی کہ فارن کرنسی اکاؤنٹ اوپن کروائیں حکومت کو میری زمین کے بارے میں پتہ ہے، میں غلط بیانی نہیں کرونگی۔انھوں نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کا ریکارڈ دکھاتے ہوئے بتایا کہ مجھے یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سال 2003 سے 2013 تک رقم اسی اکاؤنٹ سے باہر گئی ، بنک دس سالہ پرانا ریکارڈ نہیں رکھتے تمام پیسہ بینک اکاونٹ سے لندن بھیجا گیا میرے نام سے پیسہ باہر گیا اور جس جس اکائونٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے۔ایک پراپرٹی 2 لاکھ 36 ہزار پائونڈ میں خریدی گئی۔انھوں نے بتایا کہ سٹینڈر چارٹر بنک کے فارن کرنسی اکائونٹس میں سات لاکھ پائونڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی،یہ تمام دستاویزات جو میں نے دکھائی ہیں اصلی ہیں،مجھے محدود وقت دیا گیا ہے،میرا لندن اکاونٹ بھی صرف میرے نام پر ہے۔ سرینا عیسی نے برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا 2016 سے اب تک کا ریکارڈ دکھایا اور کہا کہ برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا، میں ایف بی آر گئی مجھے کئی گھنٹے انتظار کرایا ایک بندے سے دوسرے بندے کے پاس بھیجا گیا ،میں نے پوچھا میرا RTO کراچی سے اسلام آباد کیوں تبدیل ہوا ، میں نے ایف بی آر کو دو خط بھی لکھے ،27 جنوری 2020 کو ایف بی آر جاکر پہلا خط حوالے کیا ۔ اس دوران جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے،ہمارے لیے مسئلہ ہے میرٹ کا جائزہ نہیں لے سکتے ، آپ کے پاس دو فورم ہیں فریقین سے پوچھا کہ معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیتے ہیں، دوسرا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے،آپ وہاں پر موقف دے سکتی ہیں،آپ کے پاس سوالات کے مضبوط جواب ہیں، متعلقہ اتھارٹیز کو ان دستاویزات سے مطمئن کریں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے سرینا عیسی سے کہاکہ آپ کے حوصلے کی داد دیتے ہیں،سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ مجھ سے یہ بات پہلے کیوں نہیں پوچھی گئی،13 ماہ میں نے انتظار کیا، میرے بیٹے کو انگلینڈ میں ہراساں کیا گیا۔ جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ میں آپکو ایک بات بتا دوں کہ ہم ججز قابل احتساب ہیں ججز نجی اور پبلک زندگی میں جوابدہ ہیں، آپ ایک جج کی لائف پارٹنر ہیں،آپ نے جو جواب دیا وہ قانون کا تقاضہ ہے،ہم دوسرے پبلک آفس ہولڈرز سے زیادہ خوابدہ ہیں۔سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ , آغاز میں ہی مجھ سے بات پوچھ لی جاتی تو بہتر تھا میں کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتی مجھ سے عام شہری کی طرح سلوک کیا جائے ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ 13 ماہ سے آپ سے کسی نے نہیں پوچھا تو ہدایت کے مطابق ٹیکس گزار جاتا ہے۔ آپ کو ایف بی آر کے پاس جانا ہو گا امید کرتے ہیں ٹیکس کی حکام آپ کو عزت دیں گے،۔آپ بہت بہادر اور حوصلہ مند خاتون ہیں۔ سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ مجھے پہلی مرتبہ موقع ملا، جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اچھے ذہن کے ساتھ آپ کو موقع دیا، ہمارے پاس مقدمہ میرٹ پر سننے کا حق نہیں،ہم آپ کے حوالے سے مطمئن ہیں خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہیں، اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔ سرینا عیسی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس تمام معلومات موجود تھی۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آدھا گھنٹہ سن کر محسوس ہوا کہ آپ کے پاس اپنا موقف پیش کرنے کے لیے کافی ہے۔بعد ازاں عدالت نے سرینا عیسی کے 2018 کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سیل لفافے میں طلب کر لیا۔ جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ جج کی اہلیہ نے ایف بی آر کی بہت شکایت کی ہے۔ حکومتی وکیل فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے زیادتی کی تو براہ راست شکایت وزیر اعظم کے پاس جائیگی۔ سرینا عیسی نے کہاکہ میں لندن کی جائیدادیں 2018 کے گوشواروں میں جمع کرا چکی ہوں۔سپریم کورٹ نے سرینا عیسی کا بیان مکمل ہونے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت آج ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی ۔