سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے، چیف جسٹس پاکستان

aiksath.com.pk

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس )پشاور سے متعلق کمیشن کی رپورٹ پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت چار ہفتے کے لئے ملتوی کردی ہے۔ 

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجا زالاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سانحہ اے پی ایس پشاور سے متعلق کیس کی سماعت کی تو عدالت نے واقعہ کے بارےپشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم کی سربراہی میں قائم کمیشن کی رپورٹ کی نقل اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اٹارنی جنرل حکومت سے رپورٹ پرایڈوائس لے کر جواب دیں۔

دوران سماعت اے پی ایس واقعے میں شہید بچوں کے والدین پیش ہوئے جبکہ ایک شہید بچے کی والدہ نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے بچے محفوظ نہیں،ہمیں انصاف چاہیے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے ساتھ جو ہوا بہت غلط ہوا، ایسا کسی صورت بھی نہیں ہونا چاہیےتھا، مجھے آپ سے بے انتہا ہمدردی ہے۔چیف جسٹس نے کہا پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہے، عدلیہ آپ کی محافظ ہے، سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے، غفلت کے مرتکب افراد کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

والدین کی جانب سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ فراہم کئے جانے کی درخواست پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا رپورٹ حساس معاملہ ہے جس پر ایک شہید بچے کی والدہ نے کہا کہ ہمارے بچوں سے زیادہ حساس نہیں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ خفیہ رپورٹ ہے جو ابھی ہم اٹارنی جنرل کو فراہم کررہے ہیں، سپریم کورٹ آئین اور قانون کے مطابق بات کرے گی، کمیشن ہم نے بنایا اسے منطقی انجام تک پہچائیں گے۔

سماعت کے دوران آرمی پبلک سکول کے شہدا کے والدین عدالت میں آبدیدہ ہوگئے اورعدالت سے انصاف کی استدعا کی اورچیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں اللہ نے آپکو بہت عزت دی ہے ہمیں انصاف دیں۔چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں جس کے جواب میں شہدا کے والدین نے کہا ہمیں کمیشن رپورٹ کی کاپی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا رپورٹ ابھی ہم نے نہیں پڑھی ،رپورٹ پر حکومت کا جواب آئے گا تو دیکھ لیں گے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا چھ ابواب پر مشتمل رپورٹ ہے پہلے عدالت دیکھے گی پھر بتائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا قانون اور آئین کے مطابق جو ہوگا وہی کریں گے،ہم نے کمیشن بنایا ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے،ہم نے کسی بھی ذمہ دار کو نہیں چھوڑنا۔جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا جو رپورٹ آئی ہے اس پر فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔

کیس کی سماعت کے بعد شہید بچوں کے والدین نے سپریم کورٹ کے باہرصحافیوں سے بات چیت کی اور شکوہ کیا کہ ہماری بات پوری طرح ٹی وی پر نہیں آتی،ہمیں صرف اس کیس میں انصاف چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اتنے سال کے بعد بھی ہم انصاف سے محروم ہیں، ایک طرف بچے پر تشدد کرنے سے استاد کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے،اگر بچے سکول میں شہید ہو جائیں تو ذمہ داران کو قانون کے سامنے لانا چاہیے،جو بچے شہید ہو گئے وہ واپس نہیں آئیں گے،حکومت سے اپیل ہے کہ ایسا قانون بنائیں جو ذمہ دار ہیں وہ پکڑے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ایک سوپچاس گھرانے برباد ہو گئے ہیں،ہماری نسلیں برباد ہو گئی ہیں۔