سپریم کورٹ بار کے سابق صدرقاضی انورکے جسٹس وقار سیٹھ سے متعلق انتہائی اہم انکشافات

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی محمد انور نے مبینہ طور پر کورونا سے جاں بحق ہونے والے سابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ سے متعلق انتہائی اہم انکشافات کئے ہیں.

جسٹس وقار احمد سیٹھ وہ جرآت مند جج ہیں جنہوں نے پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین شکنی کیس میں پھانسی دینے کی سزا سنائی ہے.جبکہ قاضی محمد انور جسٹس وقار احمد سیٹھ کے استاد وکیل ہیں جن کا شمار سپریم کورٹ کے سینئر وکلا میں ہوتا ہے اور وہ کئی اعزازات اپنے نام کرچکے ہیں.

یو ٹیوب وی لاگرکورٹ رپورٹر ثاقب بشیر کو دیئے گئے انٹرویو میں قاضی محمد انورنے انکشاف کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے مرحوم چیف جسٹس وقار سیٹھ نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کا جج بنتے ہی استعفی دینے کو ترجیع دیں گے زندگی کے آخری ایام میں انہیں پیغام تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن واپس لے لے تو اس کے حوالے سے مثبت فیصلہ ہو سکتا ہے وفات سے دو دن قبل سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر ہوئی تھی اس سے متعلق میری اور (سینئر وکیل) حامد خان کی گزشتہ ماہ چودہ اکتوبر کو ان کے ساتھ بات ہو چکی تھی میں نے اور حامد خان نے ان سے ڈسکس کر لیا تھا پھر دس نومبر کو ہم نے خود ہی درخواست دائر کر دی تھی.

پہلی ویڈیو دیکھنے کےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://www.youtube.com/watch?v=Lk3bAIzh-4c&t=103s&ab_channel=SaqibBashir

سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس کی موت کے حوالے سے اآنے والی باتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے قاضی انور کا کہنا تھا کہ وفات سے تقربیا بیس روز قبل وہ اسپتال داخل ہوئے وہ اپنے پاؤں پر چل کر ہسپتال گئے تھے ہسپتال داخل ہونے سے قبل انہوں نے اپنی بیٹی کو نصحیت کی تھی بلکہ کچھ رقم نکلوا کر دی تھی کہ میرا جتنا بھی خرچ علاج پر ہو گا وہ ہم نے اپنی جیب سے دینا ہے ان کی وفات کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے اصرار کے باوجود وہ اخراجات ان کی بیٹی نے جیب سے ادا کئے ہیں .

قاضی محمد انور کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے فیصلے کے بعد حال میں ہی ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج نے جسٹس وقار سیٹھ کوکہا تھا کہ آپ تو نام کے ہی سیٹھ ہیں ڈی آئی خان اور پشاور سمیت ان کی کہیں بھی پراپرٹی جائیداد نہیں تھی نہ کوئی بنک بیلنس صرف تنخواہ تھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے ولیمے کے دن وہ لاہور میں موجود تھے چیف جسٹس نے میٹنگ لاہور میں رکھی ہوئی تھی انہوں نے میٹنگ اٹینڈ کی لیکن ولیمہ میں شرکت کرنے کی بجائے واپس لوٹ آئے سپریم کورٹ کے جج کے پوچھنے پر کہا کہ میں ججز کے اس طرح کی تقریبات اٹینڈ نہیں کرتا.

دوسری ویڈیو دیکھنے کےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://www.youtube.com/watch?v=WeDU6V1hPS0&t=78s&ab_channel=SaqibBashir

قاضی انور کا کہنا تھا کہ کہ جسٹس وقار سیٹھ ایک دن میرے دفتر آئے چیک بک سامنے رکھی کہا کہ میری تنخواہ سے کچھ پیسے بچ جاتے ہیں وہ بھی اکاونٹ میں موجود ہیں وہ آپ چیک پر لکھ لیں اور خدمت خلق میں جو خرچ کرتے ہیں اس کو بھی خرچ کردیں لیکن میں نے کہا میں نے ایک ٹرسٹ بنانا ہے جس پر اس نے کہا کہ اس ٹرسٹ میں سب سے پہلے میں حصہ دوں گا وقار سیٹھ کے والد نے بطور سیشن جج نہ پلاٹ نہ بنک بیلنس نہ ہی گھر میں صوفہ رکھا ہوا تھا سرکاری فون بھی اپنے پرائیویٹ استعمال نہیں کرتے تھے تہجد گزار تھے.

تیسری ویڈیو دیکھنے کےلئے اس لنک پر کلک کریں

قاضی انور نے مزید کہاکہ و قار سیٹھ نے مجھے خود بتایا تھا کہ وہ جب سے چیف جسٹس بنے ہیں چیف جسٹس کی کرسی پر نہیں بیٹھے جب بیٹی کو کینسر ہو گیا تو لاہور ہسپتال میں علاج کرایا ایک ماہ چھٹی پر رہے نہ علاج کا خرچ نہ ہی ٹی ڈی اے پشاور ہائی کورٹ سے لیا جو قانونی طور پر بھی لے سکتے تھے ایک دفعہ میرے گھر آئے تو میرے ملازم نے دروازہ نہیں کھولا تو بولے میں چیف جسٹس ہوں تو میرے ملازم بخت زمان نے کہا آپ کی شکل چیف جسٹس جیسی نہیں لگتی پھر مجھے اس نے فون کر کے یہی بتایا تو میں نے بخت زمان کو کہا کہ انہیں اندر بٹھائیں پرویز مشرف کیس کے فیصلے اور کچھ اور فیصلوں کے بعد ان کو تھریٹس بھی تھے لیکن کہتے تھے مجھے کوئی خوف نہیں ہے.