سینیٹ انتخابات ریفرنس، سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کا مکمل اردو متن

aiksath.com.pk

اسلام آباد(عابدعلی آرائیں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے حوالے سے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جو دوصفحات اور چار پیرا گرافس پر مشتمل ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے چار جنوری کو صدارتی ریفرنس کی پہلی سماعت کی تھی بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس مشیرعالم، جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحیی آفریدی شامل ہیں۔

صدارتی ریفرنس نمبر1/2020آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 186کے تحت بھجوایا گیا ہے جس کی پہلی سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ثقلین حیدر اعوان پیش ہوئے ۔

پیرا گراف نمبر ایک
عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 186کے تحت صدر مملکت نے ریفرنس بھجوایا ہے جس میں اٹھائے گئے سوال پر عدالت سے رائے مانگی گئی ہے۔

پیرا گراف نمبر2
عدالت نے لکھا ہے کہ چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا،بلوچستان اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔

پیرا گراف نمبر3
اسپیکر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز، چیئرمین سینیٹ آف پاکستان،چاروں صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان کے اسپیکرزاور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔

پیرا گراف نمبر 4
عدالت نے قراردیا ہے کہ اس ریفرنس سے متعلق معلومات دینے کیلئے نوٹس ملک کے بڑے اخبارات میں شائع کرایاجائے، یہ تمام اقدامات فوری طورترجیحا ایک ہفتے کے دوران اٹھائے جائیں ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلزکو ہدایت کی ہے کہ وہ ریفرنس نمبر1/2020میں اپنی معروضات جمع کرائیں ۔عدالت نے قراردیا ہے کہ اگر کوئی اور فریق یہ چاہتا ہے کہ اسے بھی سنا جائے تو وہ بھی اپنی معروضات جمع کراسکتا ہے اور یہ معروضات دو ہفتوں میں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
کیس کی سماعت گیارہ جنوری کو دن ایک بجے تک ملتوی کی گئی ہے۔