لائن آف کنٹرول پارکرنے والابھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیل رہاہوگا، عمران خان

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے غیر انسانی کرفیو پر وہ آزاد کشمیر کے شہریوں کا غصہ سمجھتے ہیں لیکن کشمیریوں کی مددکیلئے لائن آف کنٹرول پارکرنیوالابھارتی بیانیے کے ہاتھوں میں کھیل رہاہوگا ۔

سوشل میڈیا پرپاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بھارتی بیانیہ کشمیریوں کی مقامی جدوجہد کو اسلامی دہشت گردی قراردینے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کی آڑ میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہےکہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھانے کا بہانہ فراہم کرے گی، اس بہانے کی مدد سے بھارت کنٹرول لائن کے پار حملہ کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ کشمیریوں کی تکلیف کو سمجھتا ہوں، بھارت نے غیر انسانی عمل کرتے ہوئے دو ماہ سے کرفیو لگا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے لوگ مقبوضہ وادی کو دیکھ کر تکلیف میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایل او سی کراس کرے گا تو یہ بھارتی بیانیہ کی حمایت ہو گی۔ان کا کہناتھا کہ ایل او سی کراس کرنا بھارتی بیانیہ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہو گا.

عمران خان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستانی کشمیر میں ہزاروں افراد نے جنگ بندی لکیر یا کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرنا شروع کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے جواب میں سوشل میڈیا صارفین مختلف قسم کے سوال پوچھ رہے ہیں .

عمران خان کو جواب دیتے ہوئے ایک صارف نے پوچھا ہے کہ ’ آپ نے مظفرآباد میں کیوں تھا 27 کو مجھے امریکا جا لینے دو پھر بتاؤ گا کب جانا ھے ایل او سی کی طرف اب بتائے کب جائے کشمیری لوگ؟‘

دوسرے صارف نے عمران خان سے پوچھا ہے کہ ’سر کشمیری کب تک اذیت میں رہیں؟‘

ایک اور صارف نے سوال کیا ہے کہ’لیکن وہ کب تک محصور رہیں گے؟ ہم گن کب اٹھائیں گے؟‘

یاد رہے کہ ستمبر میں وزیراعظم عمران خان نے نے مظفرآباد میں دھواں دار خطاب میں آزاد کشمیر کے شہریوں سے کہا تھا کہ جب تک وہ نہ کہیں کوئی بھی شخص لائن آف کنٹرول کی طرف نہ جائے اور یہ کہ ان کو اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کا موقع دیا جائے اس کے بعد ہو اگلا لائحہ عمل بتائیں گے۔