غیر قانونی سگریٹ کی تجارت سے قومی خزانے کو 70 ارب کا نقصان متوقع

aiksath.com.pk

اسلام آباد:پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت سے اس سال قومی خزانے کو 70 ارب کا نقصان متوقع ہے،ملک میں غیر قانونی طور پر سگریٹ کی تجارت بدستور جاری ہے اور اس کی روک تھام کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے با اثر پالیسیزکے باوجود ناکام نظر آتے ہیں۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی کھپت کل 37فیصد ہے۔ غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں ہر سال 6 فیصد اضافہ ہورہا ہے اور اس اضافہ کے متعدد محرکات ہیں۔اعدادو شمار کے مطابق تمباکو نوشی میں کمی واقع نہیں ہوئی اور اس وقت سگریٹ کی کل کھپت تعداد 85 بلین سگریٹس ہے اور جب تک غیر قانونی سگریٹ برانڈزپر پابندی عائد نہیں کی جائے گی، اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جوکہ معیشت کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ قانونی اور غیر قانونی سگریٹ کی قیمتوں کا تعین کرنا نتہائی ضروری ہے۔

نیلسن ریسرچ کے مطابق، مقامی سگریٹ مینوفیکچررز کے تیار کردہ 86 فیصد برانڈز کو حکومت پاکستان کی جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق کم سے کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ڈیوٹی ادا کرنے کے بعد ان سگریٹ برانڈ ز کی قیمتیں جوکہ خاص طور پر مڈل اور نچلے طبقے کی جانب سے استعمال کی جاتی ہی ان کی قیمت 80 روپے فی 20 سگریٹ(ایک پیکٹ) ہیں،جبکہ مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر فروخت ہونے والی 20 سگریٹ والی ڈبی کی قیمت 25 سے 30 روپے ہے۔

گزشتہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ کی روک تھام اور قیمتوں میں فرق کے حوالے سے تیسرے درجہ کا ٹیکس عائد کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا تھا جوکہ تمباکو برانڈ ز کے مقامی صنعت کار وں کی جانب سے ختم کروادیا گیا۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے صرف 2018ـ19 کے درمیان میں سرکاری محصولات میں 123.9 ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔تاہم یہ رقم اہم ہے لیکن حکومت اس سے زیادہ ریونیو حاصل کر سکتی ہے۔ انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق، صارفین ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے بچنے کے لئے غیرقانونی سگریٹ خریدتے ہیں کیونکہ وہ متبادل برانڈز سے کہیں زیادہ سستی ہوتے ہیں۔ ان عائدشدہ ٹیکس کے علاوہ، غیر قانونی تجارت پاکستانی حکومت کو انتہائی مطلو بہ ریونیو سے محروم کررہی ہے۔

معروف مالیاتی ماہرین نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں ورنہ قانونی سگریٹ مینوفیکچرر ز کی جانب سے اپنے سرمایے کو ملک سے ختم کردیا جائے گاجس سے نہ صرف ٹیکسوں کی وصولی متاثر ہوگی بلکہ ایک بہت بڑے طبقے میں بے روزگاری جنم لے گی۔ تقریبا 70 ہزار خاندان براہ راست اور بالواسطہ تمباکو کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ایکسائیز انتظامیہ، کمزور گروننس، سگریٹ مینو فیکچر رز کی جناب سے بد عنوانی اور معاشی و معاشرتی حیثیت غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے عوامل کو مزید متحرک کرر رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک میں غیر قانونی تجارت سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے اعلی سطح کے عہدیداروں کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور پاکستان کے تناظر میں یہ کہناغلط نہیں کہ مقامی تمباکی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کا تعلق پارلیمان سے ہیں۔ معاشی ماہرین نے حکومت سے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کی کاروائیوں اور ٹیکسوں کی بہتر پالیسیاں متعارف کرانے کی اپیل کی ہے تاکہ حکومت سگریٹ کے غیر قانونی مینوفیکچرزکو ٹیکس نیٹ میں شامل کرکے اربوں روپے کے نقصان سے بچ سکے۔