دہشتگردوں کی مالی معاونت: حافظ سعید کے خلاف 2 کیسز کے فیصلے محفوظ

aiksath.com.pk

لاہور :لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعو کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کے دو کیسز کے فیصلے محفوظ کر لیے۔

اے ٹی سی کے جج ارشد حسین بھٹہ دونوں کیسز کے محفوظ فیصلے 8 فروری کو سنائیں گے۔حافظ سعید کے خلاف یہ کیسز پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت (سی ٹی ڈی) کے لاہور اور گوجرانوالہ چیپٹرز نے درج کرائے تھے۔

گوجرانوالہ میں درج کرائے گئے مقدمے کی ابتدائی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت گوجرانوالہ میں ہوئی تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر کیس کو لاہور منتقل کردیا گیا۔دونوں کیسز کے ٹرائل کے دوران عدالت میں 23 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

یاد رہے کہ1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے الزام میں جولائی 2019 میں جماعت الدعو کے صف اول کے 13 رہنماوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے پنجاب کے پانچ شہروں میں مقدمات درج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ الانفال ٹرسٹ، دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ جیسی فلاحی تنظیموں اور ٹرسٹ سے اکٹھا ہونے والی رقم اور فنڈز کو جماعت الدعو نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی نے ان تنظیموں پر اپریل میں پابندی عائد کردی تھی جہاں تفصیلی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ان تنظیموں کے جماعت الدعو اور ان کی قیادت سے روابط ہیں۔اس کے بعد 17 جولائی کو حافظ سعید کو سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں گوجرانوالہ سے گرفتار کیا تھا اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔11 دسمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں کالعدم جماعت الدعو کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے 4 ساتھیوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔