سرکاری اراضی ڈی ایچ اے کو فروخت کرنے والوں کی درخواست ضمانت خارج

aiksath.com.pk

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں سرکاری اراضی ڈی ایچ اے کو فروخت کرنے والے جعلسازوں کی درخواست ضمانت خارج کردی ہے اور نیب کو چھ ماہ میں مقدمہ کاٹرائل مکمل کرانے کا حکم دیا ہے

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ اس دوران عدالت نے بغیر تیاری پیش ہونے پر نیب پراسیکیوٹرز پراظہار برہمی کیا ۔ جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ نیب پراسیکیوٹرز کیس فائل پڑھ کر آیا کریں تاکہ عدالت کی معاونت کر سکیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کتنے ایکڑ سرکاری اراضی نجی ملکیت ظاہر کرکے ڈی ایچ اے کو دی گئی؟ جسٹس مشیرعالم نے سوال اٹھایا کہ اراضی کی مد میں ڈی ایچ نے ملزمان کو کتنی رقم ادا کی؟

نیب کے پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ ڈی ایچ اے کو 731 ایکڑ اراضی فروخت کی گئی، سرکاری اراضی کے جعلی انتقال بنائے گئے،جبکہ ڈی ایچ اے نے اراضی کے بدلے ملزمان کو پلاٹس کی 1125فائلیں دیں،جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھاکہ ریاست کی زمین کو نجی ظاہر کرکے فروخت کیا گیا۔ ملزم حنیف لالانی کا کہنا تھا میرے موکل نے ڈی ایچ اے کو زمین فروخت نہیں کی.

جسٹس منیب اخترکا کہنا تھا کہ آپکے موکل پر سکینڈل کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے،نیب کے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ملزم گرفتار نہ رہا تو گواہان پر اثرانداز ہو سکتا ہے، ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ میرے موکل پر تمام الزامات خیالی ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل سے کہاکہ تمام گواہان کے اشارے آپکے موکل کی طرف ہی جا رہے ہیں.

جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ ہر سوال کا جواب نیب پراسیکیوٹرز کو فائلوں سے ڈھونڈنا پڑتا ہے،پراسیکیوٹر نے کہاکہ کوشش کرینگے آئندہ عدالت کو شکایت نہ ہو،عدالت نے قراردیا کہ ملزمان حنیف لالانی، غلام نبی اور معیارمقدمہ کا ٹرائل مکمل ہونے تک جیل میں رہیں گے۔