عدالت عظمٰی نے رائو انوار کےخلاف جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست نمٹا دی

aiksath.com.pk

اسلام آباد :عدالت عظمٰی نے کراچی میں444 افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے معاملے میں پولیس افسر رائو انوار کے خلاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی ہے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی کی طرف سے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ کیا کوئی درخواست گزار ماورائے عدالت قتل کا براہ راست متاثرہ ہے؟ جس کے جواب میں مقتول نقیب اللّٰہ محسود کے ورثاء کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مقتول نقیب اللہ محسود کے والد بھی اس معاملے میں درخواست گزار ہیں۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ نقیب اللہ کےماوارئے عدالت قتل کے معاملے میں سپریم کورٹ نے جائنٹ انوسٹگیشن ٹیم (جے آئی ٹی ) بنائی۔ جسٹس مشیر عالم نے ریما رکس دیے کہ اس معاملے میں تو پولیس افسرراؤ انوار گرفتار ہوئے اور ان کا ٹرائل چل رہا ہے تو پھر عدالت مزید کیا کرے؟۔

جسٹس مشیر عالم نے سوال اٹھایا کہ پولیس افسر راؤ انوار کے خلاف 444 افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے کیا ثبوت ہیں؟، کیا درخواست گزاروں کو قتل ہونے والوں کے نام پتہ ہیں؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ اس ضمن میں تمام ریکارڈ سندھ پولیس کے پاس موجود ہے،ریکارڈ کے لئے عدالت نوٹس جاری کر سکتی ہے۔وکیل نےاستدعا کہ عدالت معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائے سب کچھ سامنے آ جائے گا، سندھ پولیس نے اپنی رپورٹ میں 444 افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مبینہ طور پر ماوارئے عدالت قتل ہونے والوں کے نام تک آپ کو معلوم نہیں،اگر مرنے والوں کا اتنا درد ہے تو کم از کم نام پتہ ہونا چاہیے تھے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا فوجداری مقدمات میں اعلیٰ عدلیہ کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے کیو نکہ اعلیٰ عدلیہ کی آبزرویشنز سےٹرائل پر بہت اثر پڑتا ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا مقتول نقیب اللّٰہ محسود کے والد زندہ ہیں؟ جس کے جواب میں وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ نقیب اللّٰہ کے والد انتقال کر گئے ہیں لیکن ان کے ورثا کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ اس ضمن میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا ؟ جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا معاملہ عوامی مفاد کا ہے اور سپریم کورٹ پہلے بھی اس معاملے کو سن چکی ہے۔ جس جسٹس مشیر عالم نے کہا عوامی مفاد کا کیس تب ہوتا جب متاثرہ افراد خود سامنے آتے لیکن آپ کو تو قتل ہونے والوں کے نام کا پتہ نہیں۔اس موقع پر وکیل نے کیس واپس لینے کی استدعا کی جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس نمٹادیا ۔