سعودی عرب،حماس کے باہمی تعلقات پرمبنی دستاویزی فلم جاری

aiksath.com.pk

الریاض : سعودی عرب اور حماس کے باہمی تعلقات پرمبنی دستاویزی فلم جاری  کر دی گئی ۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق  دو طرفہ تعلقات میں تبدیلی اس وقت آئی جب سعودی عرب میں پولیس نے حماس کے رہنمائوں سمیت فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے حامیوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کیا،سعودی پولیس نے تیس سال سے مملکت میں آئینی اور قانونی طورپر موجود حماس کے مندوب ڈاکٹر محمد الخضری اوران کے بیٹے انجینئر ھانی الخضری کو بھی حراست میں لے لیا۔

ڈاکٹر الخضری کی رہائی کے لیے جاری مہم نے ایک مختصر دستاویز فلم جاری ہے جس میں حماس اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو تصاویر اور اہم واقعات کو تاریخ وار دکھایا گیا ۔”تحت خیوط الشمس”یعنی سورج کی شعاعوں کے سائے ہیں کے عنوان سے جاری 9 منٹ کی دستاویزی فلم میں بتایا گیا کہ سعودی عرب میں حماس رہنما ڈاکٹر محمد الخضری کا کیا کردار رہا ہے۔

انہوں نے حماس اور سعودی عرب کی قیادت میں رابطوں میں کیسے اضافہ کیا، کس طرح ماضی میں سعودی عرب کے شاہی خاندان اور رہنمائوں نے حماس کو پذیرائی دی۔اچانک اپریل 2019 کو سعودی عرب میں پولیس نے ڈاکٹر محمد الخضری اور سیکڑوں فلسطینیوں اور اردنی شہریوں کو گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی اور دوران حراست ان کے ساتھ منظم بدسلوکی اور تشدد کے باوجود نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس جرم میں پکڑا گیا ۔

سعودی عرب کی جیل میں قید 81 سالہ حماس رہنما ڈاکٹر محمد الخضری کو پر دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ عمر رسیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی خطرناک بیماریوں کا بھی شکار ہیں۔یہ دستاویزی فلم یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر پر نشر کردی گئی ۔