جعلی تصا ویر کی شناخت کیسے ؟

aiksath.com.pk

اسرار احمد
پاکستان اور ہند کے درمیان کشیدگی کے درمیان مین ا سٹریم اور سوشل میڈیا دونوں پر ماحول گرم ہے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے جعلی خبریں اور تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں۔ پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو حالیہ واقعات کا کہہ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایک عام صارف کے لیے یہ خاصا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کی تصویر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کر لے، کہیں ایسا تو نہیں ہو رہا کہ وہ جانے انجانے میں کسی پراپیگنڈا جنگ کا حصہ بن رہا ہو۔
ڈیجیٹل رائٹس ایکٹو کسٹ فرحان حسین نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر جعلی تصاویر کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ایشو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ ’یہ ہمارے معاشرے میں جہالت اور انکھیں بند کرکے تقلید کی روایت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ کوئی بھی ایک تصویر اٹھا کر اس پر ٹیکسٹ لکھ کر شیئر کرتا ہے کہ آج سورج گرہن ہوگا اس لئے سب کالا چشمہ پہن کر باہر نکلیں۔ لوگ اس طرح کی پوسٹوں کو بغیر تصدیق کے اور سوچے سمجھے بنا دھڑا دھڑ شئیر کرنے لگ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ماضی میں نفرت انگیزی کے لئے لوگ لاوڈ سپیکر استعمال کرتے تھے لیکن آج کل کے دور میں یہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے پلیٹ فارم کی صورت میں ہر ایک کے ہاتھ آگیا ہے جہاں کوئی بھی کسی کی تصویر یا ویڈیو ایڈٹ کرکے شرانگیزی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔
فرحان حسین نے کہا کہ بڑی کمپنیز مثلا فیس بک اور ٹویٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جعلی تصاویر، ویڈیوز اور خبروں کو روکنے کیلئے کاروائی کریں لیکن بعض مرتبہ اداروں کے مفادات کا تصادم بھی ہوتا ہے اس لئے وہ موثر طور پر اس ایشو کو ایڈرس نہیں کرتے۔
فرحان حسین نے تجویز دی کہ اس معاملے سے نمٹنے کے اگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ ہر تصویر یا خبر کو انکھ بند کرکے شئیر نہ کریں اور ڈیجیٹل ٹولز کو ذیادہ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں۔وہ کہتے ہیں کہ ویسے جعلی تصویروں کی نشاندہی کے لئے بہت سے ٹولز ان لائن دستیاب ہیں لیکن اس کو انفرادی سطح پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں میں آگاہی، احساس ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کے مفید استعمال کا شعور اجاگر کیا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے نیچے بیان کردہ طریقوں پر عمل کر کے اور مختلف ویب سائٹس اور ٹولز کو استعمال کرکے جعلی تصاویر کی نشاندھی کی جاسکتی ہے یا تصاویر کی اصلیت کو جانچا جا سکتا ہے۔
وقت اور مقام کی تصدیق:
جعلی تصاویر کی نشاندہی یا ان کی اصلیت کی تصدیق کے لئے سب سے اہم معلومات جگہ اور وقت کا ہو سکتا ہے۔ اگر کسی فوٹیج یا تصویر کی تصدیق کی ضروت درپیش ہو تو تصویر یا ویڈیو کی شوٹنگ کا وقت اور جگہ کا تعین کرکے بڑی حد تک تصدیق کی جاسکتی ہے۔
جیو لوکیشن:
تصاویر اور ویڈیوز کے مقام اور وقت کی تصدیق کے عمل کو جیو لوکیشن کہتے ہیں۔
‘جیولوکیشن’ کے دوران تصویر یا ویڈیو کے حوالے سے مواد، جوکہ سورس میٹریل کہلاتا ہے، مثلا بلڈ نگ، بل بورڈ یا اس طرح کی کسی نشانی کی میچنگ ریفرنس میٹریل یعنی سیٹلا ئٹ امیج، گوگل ا سٹریٹ ویو اور سوشل میڈیا پراپلوڈ کی جانے والی تصاویر یا ویڈیو سے موازنہ کرکے کی جاسکتی ہے۔
جعل ساز کی طرح سوچیں:
چونکہ تصاویر بنانے یا ان کو پھیلانے والے عموما بہت زیادہ پروفیشنل یا ماہر نہیں ہوتے، اس لئے فوٹو میں کوئی ایسا جھول چھوڑتے ہیں جس کی نشاندہی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ اکثر کیسز میں فیک تصاویر یا ویڈیو پہلے سے موجود مواد کو ریسائیکل کرکے بنائی جاتی ہیں۔ اس لئے کسی ویڈیو یا تصویر کو جعل ساز کی نظر سے دیکھیں اور معلوم کریں کہ جعل سازی کس طرح اور کیسے کی جاتی ہے۔
عموما جعل ساز تصویرکو زیادہ بگاڑ کے اور فلٹرز لگا کر ریورس گوگل امیج سرچ کو کنفیوز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم آن لائن ایسے بہت سے ٹولز موجود ہے جن کا استعمال کرکے ہم جعلی تصاویر کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسے ٹولز کی تفصیلات اور تعارف دی جا رہی ہے۔
فائنڈ ایگزف ڈاٹ کام:
فائنڈ ایگزف ڈاٹ کام ایک فری آن لائن ٹول ہے جس کے ذریعے تصاویر کی اصلیت جانچی جا سکتی ہے۔ فائنڈ ایگزف ڈاٹ کام پر اگر کوئی تصویر اپلوڈ کی جائے یا اس کا کوئی ریفرنس دیا جائے تو یہ ٹول ایگزف ڈیٹا کی نشاندہی کرے گا۔ آیگزف ڈیٹا بنیادی معلومات بشمول تصویر کس وقت اور کس ڈیوائس سے لی گئی ہے، تصویر کی فیچرز اوربعض دفعہ لوکیشن پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان معلومات کی مدد سے تصویر کی اصلیت جانچنا اسان ہوتا ہے۔
فوٹو فارنزکس:
فوٹو فارنزکس ایک ویب سائیٹ ہے جو کہ تصویر کا ‘ایرر لیول انالسس’ کرکے معلوم کرتا ہے کہ کسی مخصوص تصویر کے کس حصے کی بعد میں ایڈٹنگ کی گئی اور اس میں کوئی اضافی حصہ شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ویب سا ئٹ کسی تصویر کا ایگزف ڈیٹا کی معلومات بھی مہیا کرتا ہے۔