کشمیر کےلئےجہاد ضروری، کب تک ڈالروں کا انتظار کرتے رہیں گے،راجہ فاروق حیدر

aiksath.com.pk

اسلام آباد: وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے قومی پارلیمنٹیرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ مقبوضہ کشمیر میں تین لاکھ کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ تین لاکھ نے پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ دس ہزار لوگوں کو غائب کیا گیا۔ دس ہزار خواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں بچوں اور بچیوں کی آنکھوں کی بصارت چھین لی گئی ہے۔ لاتعداد گمنام قبریں ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھی بعض عاقبت نااندیشوں نے پلوامہ کو سانحہ قرار دیا۔ غلامی کسی کو قبول نہیں ہے۔ آر ایس ایس بی جے پی کو ہائی جیک کر چکی ہے۔ مودی اکھنڈ بھارت کے لئے لشکر بنا چکا ہے۔ کشمیر چلا گیا ہے۔ اب معلوم ہو گیا ہے کہ کشمیر پاکستان کی بقا کی جنگ ہے کیونکہ کشمیریوں کی وجہ سے بھارتی فوج کی بڑی جمعیت پہاڑوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے تو پھر کوئی اور مسئلہ بھی امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم دوسروں کی لڑائی لڑتے رہے۔ کشمیر پر وقت آیا تو کوئی ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہو رہا ہے۔ کشمیریوں کو کلیدی کردار دیں بھارت کو پچھاڑ دیں گے۔ غلام نبی آزاد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے غلط خیرمقدم کیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت کو عالمی دباؤ سے نکالا ہے۔ بھارتی حکومت کو بیل آؤٹ کیا ہے۔ ہندو بنیے کی چالوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بھارت اگلے مرحلے میں پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ بھارتی سپریم کورٹ اپنی حکومت کو ہدایت کر چکی ہے کہ چالیس دریاں کو آپس میں منسلک کریں۔ ہم نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کر کے غلطی کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کبھی اپنی حکومت کے خلاف نہیں گئی۔ ہم کب تک ڈالروں کے پیچھے رہیں گے کہ ہم آخری کشمیری کی شہادت کا انتظار کر رہے ہیں۔ بھارت پاگل ہو گا اگر وہ آزادکشمیر پر حملہ کرے گا۔ وہ مقبوضہ کشمیر کو لے چکا ہے اور کیا ہم آخری کشمیری کے قتل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کشمیر میں ہونے والے مظالم بیان کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر اشک بار ہو گئے اور کہا کہ ذلت کی زندگی نہیں چاہئے۔ جگہ جگہ عصمت دری ہو رہی ہے۔ برہنہ کر کے لوگوں کو سڑکوں پر دوڑایا جا رہا ہے۔ ہم نہ رہے تو پاکستان کے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ شملہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ سیز فائر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان کے اقوام متحدہ سے خطاب کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان ہماری آزادی کا ضامن ہے۔ مگر ہم ذلیل و خوار نہیں ہونا چاہتے۔ ایٹم بم کی بات کرنا کمزوری ہے کیا ہم روایتی جنگ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ حلفا کہتا ہوں کہ سیزفائر سے آگے قدم بڑھائیں۔ سارے آزادکشمیر کے عوام صف اول میں ہونگے۔ پشتونوں کے کشمیری شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمارے لئے جہاد کیا ہے۔ آج بھی ہم ان کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی قوم سے کوئی گلہ نہیں ہے جن کے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ آزادی کے لئے آخری کشمیری تک لڑے گا۔ کوئی ہتھیار نہیں ڈالے گا کیونکہ ہمارے پاس گنوانے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ ہمیں آپ کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد نہیں چاہئے یہ وقت چلا گیا ہے۔ یہ کہنے کی باتیں ہیں حد ہو گئی ہے۔ ہمیں عملی اقدامات چاہئیں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم اپنا نام میر صادق اور میر جعفر کے ساتھ نہیں لکھوائیں گے ہم اپنا نام حیدر علی کے ساتھ لکھواتے ہوئے امر ہو جائیں گے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بستیاں ویران، قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر کے موقف کی حمایت کرتا ہوں۔ عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ پشتونوں نے کشمیر کو آزاد کروانے کیلئے جو بندوقیں استعمال کی تھیں وہ بندوقیں آج بھی گھروں میں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ اگر چوبیسویں قرارداد بھی منظور کر لی تو کشمیر کا مسئلہ تو ایسے ہی رہے گا جو اپنے پاں پر نہیں کھڑے ہو سکتے پھر دوسرے ان کے جنازے اپنے کندھوں پر قبرستان لے جاتے ہیں انہیں زندگی نہیں دی جاتی۔ ایک ہزار سال لڑنے کی بات کی اور ایک دن بھی نہیں لڑے 72 سال ہو گئے ہیں۔ 80 لاکھ کشمیری محاصرے میں ہیں۔ یہ قیادت کی آزمائش کا وقت ہے۔ قوم کو ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے قیادت کو فیصلے کرنے ہوتے ہیں کیا ہم آخری کشمیری کو دفنانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ سلام پیش کرتا ہوں معصوم بچے نے بھی اور 90 سالہ بزرگ نے بھی پتھر ہاتھ میں اٹھا رکھا ہے اور بھارتی فوج کو للکار رہا ہے۔ کشمیر نظریاتی، جغرافیائی، معاشی اور سیاسی شہ رگ ہے گزشتہ 45 دنوں میں ساڑھے تین سو لڑکیاں اٹھا لی گئی ہیں۔ ہم کہاں ہیں۔ جہلم میں کشمیری ماں بہنوں کے دوپٹے آ رہے ہیں اور پانی خون سے رنگین ہے۔ ہم ایسے حالات میں آنکھوں سے آنکھیں ملا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کو سارے کشمیر کا وزیراعظم قرار دیا جائے آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو آر پار کی اسمبلی قرار دیا جائے اور اس کا نیویارک میں اجلاس طلب کیا جائے۔ فیصلہ کن جدوجہد کا وقت ہے یہاں بھی کچھ بزدل موجود ہیں جو کبھی معیشت سے ڈراتے ہیں کبھی کسی اور چیز سے کشتیاں جلانے کا وقت ہے تب ہی دنیا متوجہ ہو گی ورنہ پانی کی ایک ایک بوند کو ترس جائیں گے ۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو اجازت دے دیں وہ اس وقت 9 لاکھ بھارتی افواج کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں ہزاروں قبائلی گزشتہ روز مظفر آباد میں اس کا برملا اظہار کر چکے ہیں عالمی امن فوج کو مقبوضہ کشمیر بھجوایا جائے ایل او سی پار کا اعلان کیاجائے کروڑوں لوگ پیطھے کھڑے ہونگے خواہش تھی کہ وزیراعظم پاکستان مسلم لیگ پیپلزپارٹی جماعت اسلامی سمیت ساری سیاسی قیادت کے ساتھ مظفرآباد میں یکجہتی کجا اظہار کرتے مگر وہ سب کو ایک سٹیج پرکھڑانہ کرسکے ۔ پاکستان سعودی عرب اور ایران میں چپقلش ختم کروانے کے لیے کردار ادا کرے ۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی طرف سے کشمیریوں کو مضبوط پیغام دینا چاہتا ہوں بھارت نے مسئلہ کشمیر کے جواز کے طور پر بلوچستان کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی مگر سارے بلوچستان نے ہر موقع پر بھی اور اس چھ ستمبر کو بھی ثابت کر دیا کہ ان سے بڑا محب وطن کوئی نہیں ہے۔ بلوچستان کے ہر قصبے ہر گاں میں کشمیر ریلیاں نکلیں۔ استحکام پاکستان کی ضرورت ہے بلوچستان کا نمائندہ وفد اپنے اخراجات پر نیویارک جا چکا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ پارلیمانی کوشوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے اگر پاکستان وکیل ہے تو وکیل مدعی کے پیچھے نہیں بلکہ آگے کھڑا ہوتا ہے۔ ہمیں غاصبوں کو للکارنا ہو گا۔ کشمیر پر قبضے کے بعد بھارت نے اسے اپنا حصہ بنا لیا ہے۔ نغموں، نظموں اور جذباتی تقریروں اور قراردادوں سے کشمیریوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ زمینی حقائق کی طرف جائیں غاصب اور ظالم کے خلاف عملی اقدام کریں۔ اگر یہ ہمت نہیں ہے تو ٹی وی لگا کر ڈرامے دیکھیں۔ کرکٹ اور فٹبال کے میچ دیکھیں۔ تالیاں بجانے کے بجائے جہاد افغانستان کی طرح عملی مدد کریں۔ خودمختاری اور آزادی کا تحفظ اس طرح نہیں کیا جاتا اس کے لئے جہاد کا اعلان ضروری ہے۔ کب تک امریکی ڈالروں کا انتظار کرتے رہیں گے۔ بندوق سے گولی نکلے گی تو کشمیر کی آزادی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ جب تک مقبوضہ کشمیر میں گٹر بھارتی فوجیوں کی نعشوں سے نہیں بھریں گے۔ دنیا توجہ نہیں کرے گی۔ مسلح جدوجہد کے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ جب تک سڑکوں پر بھارتی فوجوں کے خون سے رنگین نہیں ہوں گی کوئی توجہ نہیں دے گا۔معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاش اعوان نے کہا کہ سب نے مل کر کشمریوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے دنیا کو جگانے کی ضرورت ہے۔کشمیر کے بغیرپاکستان نامکمل ہے۔قومی کاز میں کشمیر کو بنیادی حثیت حاصل ہے حکومت مصروف عمل ہے ۔جوش کے ساتھ ہوش کا دوامن تھامے رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ کازکو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔دنیا بھارت کا موقف مستردکرکے پاکستان کے بیانیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔حکومت پاکستان کی ہر سرگرمی سوچ پالیسی میں کشمیر کاز کو فوقیت حاصل ہے دنیا پاکستان کی بات سن رہی ہے وہی ہوگا جو قوم چاہے گی وزیراعظم پاکستان جلد مسئلہ کشمیر پر روڈ میپ اور پلان کا اعلان کریں گے پارلیمینٹ ہماری طاقت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت آخری سانس لے رہا ہے ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے والی ہے کشمیری نہیں تھکے ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا جلد آزادی کو سورج طلوع ہوگا۔تلواراٹھانے بندوق اٹھانے اعلان جہاد اور دیگر بڑے فیصلے بھی یہ قوم کرے گی مگر ہم نے ایک زمہ دارانہ ریاست خود ثابت کیا آئندہ بھی کرنا ہے ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر سید عبد اللہ گیلانی نے کہا 80 لاکھ محصور کشمیری اجتماعی قبر کا منظر پیش کر رہے ہیں ہمارے ساتھ کب تک آنکھ مچولی کا کھیل جاتا رہے گا پیچھے نہیں ہمارے ساتھ کھڑے ہوں پاکستانی قوم کے شکر گزار ہیں ہمیں بار بار محصور کیا گیا ہے ایسا دبا ڈالنے کی ضرورت ہے جسے نئی دہلی محسوس کرے سری نگر میں اس کاوش کو محسوس کیا جائے اسی طرح کا پیغام دینے کی ضرورت ہے ۔ او آئی سی اور عالمی برادری سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے بلکہ یہ تو کشمیریوں کے قاتل مودی کو ایوارڈ دے رہے ہیں صرف اور صرف پاکستان اس کی فوج آزاد کشمیر اور عوام سے توقع ہے پاکستان کی طرف سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم نہ کیا جائے کیونکہ یہ بیل آٹ ہے کیونکہ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ بھارت اپنی قومی سلامتی کو مقدم رکھے ۔ چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں پارلیمنٹ کو ایک ٹیم کی طرح لیں قیادت وقت پر اہم فیصلے کرتی ہے ماضی میں ہم سے وقت پر فیصلے نہیں ہوئے ۔ بھارت سارک کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب مودی اور اس کے حواری جنگی جرائم میں جیل میں ہوں گے