اسلام آباد میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے ہنگامی اقدامات کا حکم

aiksath.com.pk

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سر برا ہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد کے کوڑا کڑکٹ کی ڈمپنگ سائٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی عدالت نے حکومت کی جانب سے ڈپنگ سائیٹس سے متعلق رپورٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کو فوری طلب کر لیا

دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوے کہا کوڑا کرکٹ لگانے کی سائٹ محض کاغذوں میں دکھائی گئی،سیکرٹری داخلہ کو بھی گزشتہ سماعت پر بلایا گیا، عدالت کو بتایا کچھ جاتا ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا، عدالت کے ساتھ بیوروکریٹک انداز اپنایا گیاکیوں نہ سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کے خلاف ایکشن لیں، جس کے بعد عدالتی سماعت میں چیر مین سی ڈی اور مئیر اسلام آباد کے آنے تک کا وقفہ کردیاگیا

وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت میں شروع ہوئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم نے کوڑا ڈمپ کرنے کے منصوبے ڈبلیو ایل سی سے متعلق پوچھا تو چند تصویریں دکھا دی گئیں اور تصویروں میں تین چار گڑھے کھودے ہوئے ہیں، تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت ایک ارب روپے بڑھ گئی ہے ،اور اوپر سے عدالت کو بتایا جا رہا ہے کہ منصوبے پر چار سال لگیں گے،آپ نے شاپر ختم کرنے کا اچھا اقدام کیا ہے، اب شہر سے چھلکے، سبزیاں، ہڈیاں ٹھکانے لگانے کے لئے بھی کچھ کریں، عدالت کو کاغذی نہیں بلکہ عملی نتائج چاہئیں

مئیر اسلام آباد نے عدالت کو بتا یا کہ بہت مرتبہ کوشش کی گئی کہ کسی کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا جائے تاہم ا س کے لئے باقاعدہ ٹینڈر جاری کرنے ہوں گے ایم سی آئی کے پاس توملازمین کو تنخواہیں دینے کے بھی فنڈ نہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا چھوٹی سطح پر کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ دیں, کوڑا کرکٹ سے آپ توانائی حاصل کر سکتے ہیں اور مالی فوائد بھی ۔کوڑا کرکٹ ٹھیکے پر دینے سے متعلقہ علاقے کو مفت بجلی بھی فراہم کی جاسکتی ہے .

مئیر اسلام آباد نے کہاکمپنیوں کے مطابق چھوٹے پرا جیکٹ ان کے لئے ممکن نہیں بننے والی بجلی نیپرا کو مہنگی لینا ہو گی .

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا پوری دنیا میں ایسے پرا جیکٹس کوپوری دنیا میں سبسڈی دی جاتی ہے حکومت کو ان مسائل کے حل کیلئے سستے اور موثر حل تلاش کرنا ہونگے چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے فنڈز کیلئے آپ حکومت کی طرف نہیں دیکھ سکتے آپکو اپنے وسائل خود پیدا کرنا ہونگے,.

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا عدالت کو ٹھوس پیش رفت چا ہیئے ایک ماہ بعد اقدامات کر کے رپورٹ دیں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔