ہندوستانی تخریب کاری کا مقابلے کرنے کےلئےتیاررہنا چاہیے،مسعود خان

aiksath.com.pk

اسلام آباد:صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی، ہندوستانی قابض افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان اور آزاد کشمیر کے خلاف ایک گھنائونی سازش میں مصروف کار ہیں۔

صدر سردار مسعود خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں موجودہ صورتحال میں جبکہ دنیا کی توجہ COVID-19پر مرکوز ہے ہندوستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور اس کی قابض افواج نے کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میںبے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہندوستان نے چالیس سے زائد نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا ہے۔ ۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض حکام یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ مقبوضہ علاقے میں ان کی طرف سے جاری قاتلانہ مہم کا دو طرح سے رد عمل آئے گا ۔ ایک یہ کہ کشمیری نوماہ کے طویل محاصرے اور حالیہCOVID-19کے لاک ڈائون باوجود اتنی بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے اور ہندوستانی استبداد اور زمین سوز حکمت عملی کے خلاف احتجاج کریں گے اور یہ کہ موجودہ بغاوت اور شورش 2016میں برہان وانی کی شہادت کے بعد ہونے والے طوفانی احتجاجوں اور بائیکاٹ کی یاد تازہ کر دے گی۔ دوسرا یہ کہ عالمی میڈیا ایک بار پھر ہندوستانی مظالم اور ان کی طرف سے کی جانے والی ہلاکتوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔

صدر نے کہا کہ ان دو غیر متوقع صورتوں سے نمٹنے میں بے بسی کے باعث ہندوستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ہائی کمانڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کمزور اور من گھڑت کہانیاں گھڑ کر پاکستان پر یہ الزام عائد کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ایسے نئے گروہ تیار کر رہا ہے اور انہیں فنڈنگ بھی کر رہا ہے کہ وہ ہندوستانی قابض قوتوں سے لڑیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان یہ جانتا ہے کہ کشمیر کی موجودہ تحریک سو فیصد مقامی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانی افواج لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور اب ان کے انٹیلی جنس حکام ایک جھوٹے فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں اور پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے جنگی کھیل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

صدر نے کہا کہ ہندوستانی قابض قوتوں نے ایک مرتبہ پھر ”شکار کھیلو” کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے مختلف جارحانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ یہ جارحیت ہندوستان پاکستان اور آزادکشمیر کے خلاف کرنا چاہتا ہے جو مختلف تخریبی کارروائیوں، جاسوسی اور پروپیگنڈے کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ ماضی قریب تک ہندوستانی حکام 230مقامی جنگجوئوں کا ذکر کرتے رہے لیکن اب وہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں 350کا مزید اضافہ ہو چکا ہے اور وہ آزادکشمیر میں موجود جھوٹ موٹ کے لانچنگ پیڈ کا بھی زکر کر رہا ہے جو کہ سرا سر بے بنیاد اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔ یہ سب کچھ دراصل وہ تازہ جارحیت کرنے کے بہانے ڈھونڈرہا ہے۔

صدر مسعودنے کہا کہ جب کوئی آپ کو دیوار کی طرف دھکیل دیتا ہے تو پھر آپ اٹھتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آپ کیا ہیں۔ تشدد دبالاخر ہلاکت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ صدر نے کہا کہ کشمیری اب یہ کہتے ہیں کہ اب کافی ہو چکا ہے اب ہندوستان کا استبدداد مزید نہیں چلے گا اور وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ سردار مسعود نے بتایا کہ کشمیری پولیس شہداء کی لاشوں کو ان کے خاندانوں کے حوالے نہیں کر رہی اور وہ یہ اس خوف کی وجہ سے کر رہے ہیں کہ شہداء کے ماتمی جلوسوں اور جنازوں پر لوگوں کا طوفان امڈ آئے گا۔

صدر نے کہا کہ ہندوستان اب کشمیریوں کی لاشوں سے ڈرتاہے تو وہ زندوں کا کیسے مقابلہ کرے گا۔سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں پیلٹ گنوں، آنسو گیس اور ایمونیشن کے استعمال کی پرزور مذمت کی ہے اورکہا ہے کہ اس سے کئی لوگ بینائی سے محروم اور اندھے پن کا شکار ہو رہے ہیں اور نیز ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔صدر مسعود خان نے کہا کہ اب جب کہ بین الاقوامی میڈیا اورZoom Webinarsمقبوضہ جموں وکشمیر میں قتل عام کو اجاگر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بالکل خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے اور اس نے مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ ڈومیسائل قانون جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو غلام بنانے اور خطے کو ایک کالونی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس ہندوستانی اقدام پر ایک لفظ تک نہیں کہا۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ یہ واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ہلاکتوں میں تیزی لا کر اور ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر کے دراصل ایک ایسی سموکس سکرین پیدا کرنا چاہتا ہے جس کے پردے میں وہ نئے ڈومیسائل قوانین کے شیطانی ایجنڈے پر ہٹلر کے نیورم برگ قوانین کے ماڈل کو عملی جامہ پہنانے جا رہا ہے۔ 

مسعود خان نے کہا کہ اس نئے قانون کے اطلاق کے بعد کشمیری اپنے وطن میں بے وطن ہو جائیں گئے اور ان سے استصواب رائے کا حق چھین لیا جائے گا۔ اور ان کی زمینیں چھین لی جائیں گی اور پھر ان کا قتل عام کیا جائے گا تاکہ ہندو راشٹرا کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندوستان غیر معقولیت کے راستے پر اکڑا ہوا ہے ۔ ابھی حال ہی میں اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کو بھی اپنے موسم کے بارے میںقومی خبروں میں شامل کرے گا۔

صدر نے کہا کہ یہ ہندوستان کی طرف سے ایک اشتعال انگیز اقدام ہے اور پاکستان کو بھی اس کے جواب میں لداخ اور جموں کشمیر کے علاقوں کو اپنی موسمی پیش گوئیوں میں شامل کرنا چاہیے۔ چونکہ کشمیرپر ہندوستان کا قبضہ ناجائز ہے اور اس طرح یہ سو فیصد ادلے کا بدلہ ہو گا ۔ اور اس سلسلے میں مزید باریکیوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔