”جے شری رام کا نعرہ لگائو یا کشمیر سے چلے جاوبی جے پی کی نئی پالیسی

aiksath.com.pk

سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ” جے شری رام کا نعرہ لگائو یا کشمیر سے چلے جائو ” ، جو مکمل طورپرایک ہندو نعرہ ہے ،کشمیریوں کے لئے مودی کی زیرقیادت بی جے پی کی نئی پالیسی بن گئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتواحکومت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے بعد بھارتی فوج نے کشمیری مسلمانوں کو بندوق کی نوک پر ”جے شری رام”کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا شروع کردیا ہے۔

رپورٹ میں ایک حالیہ واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے ایچ ایم ٹی میں آدھی رات کوگھروں میں گھس کر شہریوں کو باہر گھسیٹا ، ڈنڈوں سے تشددکانشانہ بنایا اور انہیں ”جے شری رام” کے نعرے لگانے کا حکم دیا۔فوجیوں کی کارروائی سے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ٹویٹر پر مودی کے بھارت کا مذاق اڑانے پر مجبور ہوئی کہ لاٹھیوں سے بے گناہ شہریوں کو ”جے شری رام” کے نعرے لگانے پر مجبور کرنامقبوضہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا بھارتی حکومت کا وژن لگتا ہے۔

چونکہ آر ایس ایس کے غنڈے اپنے اصل ایجنڈے کہ بھارت صرف ہندئووں کے لئے ہے پرعمل پیرا ہیں ، کشمیری سیاسی رہنما ، کارکن اور نوجوان جو ہندو نعرہ لگانے سے انکار کرتے ہیں انہیں قتل یا قید کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مودی کی زیر قیاد ت آر ایس ایس حکومت کا اصل ایجنڈا بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیرسے مسلمانوں کو نکالنا ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا نوٹس لیں جس نے جنوبی ایشیاکے امن و استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔