یاسین ملک کے مقدمے میں مونیکا کوہلی چیف پراسیکیوٹر مقرر

aiksath.com.pk

جموں: بھارت کے تحقیقاتی ادارے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے مفتی محمد سعید کی بیٹی کے اغوا اور سرینگر میں بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل سے متعلق مقدمات میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو جلد ازجلد سزادلانے کے لئے مونیکا کوہلی کو چیف پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے خلاف پہلے ہی فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مونیکا کوہلی گزشتہ سات سال سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ہائیکورٹ میں سی بی آئی کی وکیل کے طورپر پیش ہورہی ہیں اور 1989-90 کے ان دونوں مقدمات میں محمد یاسین ملک کی ضمانت کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔

سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ پرسنل اینڈ ٹریننگ (ڈی او پی ٹی) نے کوہلی کو بطور سینئرسپیشل پراسیکیوٹر اور ایس کے بٹ کو وکیل استغاثہ کی حیثیت سے تین سال کے لئے مقرر کرنے کے حوالے سے مجاز حکام کو بتادیا ہے۔

محمد یاسین ملک اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں جنہیں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اپریل 2019 میں ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔بہت سے لوگ محمد یاسین ملک کے مقدمات میں ان تقرریوں کومودی حکومت کی ایک گہری سازش کے طور پر دیکھتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ بھارتی حکومت عدلیہ کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی پسند قیادت کو ختم کرنے کے منصوبے پرتیزی سے عمل پیرا ہے۔