مقبوضہ کشمیر میں 62 ویں روز بھی زندگی مفلوج، حریت رہنماوں کی جائیداد ضبطگی شروع

aiksath.com.pk

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں آج 62 ویں روز بھی زندگی مفلوج ہے، مسلسل کرفیو سے غذائی بحران سنگین ہوگیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبری پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں۔

دوسری جانب بھارت نے حریت پسند کشمیری رہنماوں کی جائیداودں کو ضبط کر نا شروع کر دیا ہے ، نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید جموں وکشمیر فریڈم پارٹی کے چیرمین شبیر احمدشاہ کا سری نگر میں گھر ضبط کر کیا گیا ہے ۔

بھارتی ادارے ای ڈی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شبیر احمدشاہ کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو سری نگر میں گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ تینوں خواتین شبیر احمدشاہ کے گھر میں مقیم ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون میں مختلف مقامات نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سخت سکیورٹی کے باوجود احتجاج کیا، اس احتجاج کے باعث بھارتی قابض فوج بے بس ہو کر رہ گئی، یہ احتجاج سرینگر، بڈگام، گندربل، اسلام آباد، پلوامہ، کولگام، شوپیاں، بانڈی پورہ، بارہمولا، کپواڑہ سمیت دیگر علاقوں میں زبردست احتجاج کیا گیا۔

نوجوانوں کی بڑی تعداد احتجاج کے دوران ہند مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگاتی رہی۔ اس دوران قابض فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس کی وجہ سے متعدد نوجوان زخمی بھی ہوئے وادی میں 5 اگست سے مسلسل کرفیو نافذ ہے، گھروں میں قید کشمیریوں کے پاس کھانا پینا ختم ہوگیا،

کمیونی کیشن بلیک آوٹ کی وجہ سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

بھارتی فوج کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود کشمیری نوجوانوں کا احتجاج جاری ہے۔ صورہ میں کشمیریوں نے بھارتی مظالم کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بھارتی فوج نے حریت رہنماں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔