‘ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا” چیئرمین سینیٹ مہمان؟ فیصلہ چند دن کی دوری پر

aiksath.com.pk

اسلام آباد: سیاست اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے ،” سیاست کے سینے میں اخلاقیات یا دل نہیں ہواکرتا” کے مصداق پیپلز پارٹی جس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ایک سال قبل ملک کے سب سے قابل قدر منصب پر لے کر آئی وہی پارٹی آج سنجرانی سے پہلے استعفے کا مطالبہ کرتی نظر آئی ، چیئرمین سینیٹ کی طرف سے انکا رکے بعد اب تحریک عدم اعتماد جمع کروادی گئی ہے ۔زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد لانے والوں کو عددی برتری حاصل ہے اور صرف احساس اور پیغام دینے کیلئے تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے کہ ہم مضبوط ہیں ہم نے جو کیا ا پر ہم سے کسی قسم کی باز پرس نہ کی جائے ، ملکی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار کسی چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور مین قائم ہونے والے سینیٹ آف پاکستان کے اب تک 8چیئر مین ہو گزرے ہیں 9ویں چیئر مین کیلئے اگلے دو ہفتوں میں میدان سجے گا ۔ پہلے چیئر مین سینیٹ خان حبیب اللہ خان 6اگست1973سے4جولائی1977تک عہدے پرفائز رہے دوسرے چیئرمین غلام اسحاق خان 21مارچ1985سے12دسمبر1988،تیسرے چیئرمین وسیم سجاد 24دسمبر1988سے12اکتوبر1999، چوتھے چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو 23مارچ 2003سے12مارچ 2009، پانچویں چیئر مین سینیٹ فاروق حمید نائیک 12مارچ2009سے 11مارچ 2012، چھٹے چیئر مین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری 12مارچ 2012سے11مارچ 2015،ساتویں چیئرمین میاں رضاربانی 12مارچ 2015سے11مارچ2018تک منصب پر فائز رہے ، موجودہ آٹھویںچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 12مارچ2018کو منصب سنبھالا۔
اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو نئے چیئر مین ایوان بالا کے نویں چیئرمین ہونگے۔