وزارت تعلیم کے ذیلی ادارے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کا کوریا کیلئے اسکالرشپ میں فراڈ

aiksath.com.pk

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزارت تعلیم کے ذیلی ادارے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کا کوریا کیلئے اسکالرشپ میں فراڈکا انکشاف ہوا ہے،
وزارت تعلیم نے بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کی ڈائریکٹر جنرل چاند اصغر کی تحریری سفارش بحوالہ چٹھی نمبر (1-3 )Ministry) /DD (ACT/ DB) BECS/2019/ 16 مورخہ 26 فروری 2019 پر عمل در آمد کرتے ہوئے گریڈ 16 کی ملازمہ نادیہ خان کو سنیئر گریڈ افسر ظاہر کر کے کورین اسکالرشپ کیلئے نامزد کرادیا۔ جبکہ اکنامک آفیرز ڈویژن کے خط نمبر 2(2) SEA / KOREA/2019 مورخہ 6 فروری 2019 کے مطابق کورین اسکالرشپ کیلئے گریڈ 17 یا اس سے اوپر کا افسر ہونا اور دو سالہ متعلقہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔ لیکن چاند اصغر نے وزارت تعلیم کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے بیسک ایجوکیشن کے گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے 100 سے زائد افسران کو نظر انداز کرکے گریڈ 16 کی اس ملازمہ کو دھوکہ دہی سے کورین اسکالرشپ کیلئے منتخب کروا دیا۔
نادیہ خان کے خلاف ایف آئی اے میں کیس نمبر 62/16 ACC FIA کے تحت انکوائری بھی چل رہی ہے اور اس کے خلاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بحوالہ چٹھی نمبر 2014- (PAC /(F. 18 (1 مورخہ 26 اگست 2017 لاکھوں روپئے غبن کی ریکوری اور انضباطی کارروائی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
قبل ازیں نادیہ خان نے جعلی آرڈر کے ذریعے ترقی حاصل کی جسے 2017 میں وزارت تعلیم کے آرڈر نمبر F. 9 -8 /2017- PT-1 مورخہ 12-12-2017 کے تحت منسوخ کردیا گیا لیکن چاند اصغر نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے وزارت تعلیم کے احکامات کو پس پشت ڈال کر اپنے دستخطوں سے بحوالہ آرڈر نمبر (F. 1(1) AD (HR) BECS -2017 مورخہ 20 دسمبر 2017 نادیہ خان اور دیگر افسران کو قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دوبارہ گریڈ سترہ اور اٹھارہ کا اسٹنٹس اور اتھارٹی سونپ دی جسے وزارت تعلیم نے دوبارہ منسوخ کیا۔
قبل ازیں ڈیپارٹمنٹ آڈٹ کمیٹی، فیڈرل اڈٹ اور پی اے سی نے بھی نادیہ خان سے پانچ سال تک غریب بچوں کی تعلیم کے پیسے کی ریکوری کا حکم دے رکھا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور سیکرٹری تعلیم نے چاند اصغر ڈی جی بیسک ایجوکیشن کے خلاف اس فراڈ پر انکوائری کا حکم دے رکھا ہے لیکن وزارت تعلیم کی ایڈمن نے دوسری انکوائریوں کی طرح اس انکوائری کو بھی کھو کھاتے ڈال دیا ہے۔ اس کے علاوہ چاند اصغر کے خلاف فریحہ جعفر کی طرف سے دی گئی درخواست پر وزیر تعلیم کے احکامات کے باوجود انکوائری گزشتہ اٹھ ماہ سے ٹھپ پڑی ہے