پنجاب پولیس کے خلاف سچی، جھوٹی شکایات سب سے زیادہ

aiksath.com.pk

اسلام آباد (عابدعلی آرائیں ) گذشتہ چھ ماہ کے دوران پولیس کے خلاف سب سے زیادہ شکایات پنجاب جبکہ سب سے کم گلگت بلتستان میں درج ہوئی ہیں اور صرف 22پولیس افسران و اہلکاران کوسخت سزا سنائی گئی ہے جبکہ 270اہلکاروں کو معمولی نوعیت کی سزائیں دی گئی ہیں .

پولیس کے خلاف جھوٹی شکایات کے اندراج میں بھی پنجاب بازی لے گیا خیبر پختونخوا دوسرے نمبر پر ہے، پولیس کے خلاف شکایات میں پنجاب پہلے، سندھ دوسرے ، خیبر پختونخوا تیسرے، اسلام آباد چوتھے ، آزاد کشمیر پانچویں ، بلوچستان چھٹے جبکہ گلگت بلتستان ساتوں نمبر پرہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم پولیس ریفارمز کمیٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے تیس جون تک ملک بھرمیں اب تک پولیس افسران و اہلکاران کے خلاف کل 47065شکایات درج ہوئی ہیں جبکہ اس سے قبل کی24387شکایات بھی زیر التوا تھیں ، نئی شکایات کے بعد کل شکایات کی تعداد 71452ہوگئی جن میں سے 57377شکایات نمٹا دی گئیں ، اب بھی 14074شکایات زیر التوا ہیں ، اسی عرصہ کے دوران 9156جھوٹی شکایات اور 5330غیر متعلقہ شکایات بھی نمٹائی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ پولیس ریفارمز کمیٹی کی ہدایت پر ملک کے چاروں صوبوں کے ہر ضلع اور گلگت بلتستان، کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی پولیس کے خلاف شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جس کی نگرانی ایس ایس پی کرتے ہیں ،

پولیس ریفارمز کمیٹی کے اجلاس میں تمام صوبائی آئی جیز پولیس کی جانب سے تحریری رپورٹس پیش کی گئی ہیں ، ایک ساتھ نیوز کو دستیاب رپورٹ کے مطابق کرپشن کرنے پر 19افسران یا اہلکاران کو معمولی جبکہ 5کو سخت سزا سنائی گئی غیر قانونی تضاضوں کی شکایات پر صرف چار اہلکاروں کومعمولی نوعیت کی سزا سنائی ہے ،

محکمانہ معاملات پر 16افسران و اہلکاران کو معمولی، بھتہ خوری کی شکایت پر تین، غیر قانونی تحویل کی شیکایت پر ایک کو سخت جبکہ ایک کو معمولی سزا دی گئی ۔ تفتیش میں تاخیر پر صرف ایک افسر کو معمولی سزا سنائی گئی، غلط تفتیش پر 105افسران کو معمولی جبکہ 6افسران کو سخت سزا دی گئی ہے ، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث 2پولیس افسران و اہلکاران کو سخت جبکہ 7کو معمولی سزا سنائی گئی ، نامناسب رویہ اور دست اندازی کی شکایت پر 45کو معمولی جبکہ تین کو سخت سزا دی گئی ہے ،

ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونے پر 38افسران کو معمولی جبکہ ایک کو سخت سزا سنائی گئی ہے ، فرائض میں غفلت برتنے پر 9 افسران کو معمولی ایک کو سخت سزا سنائی ، تشدد کرنے والے چھ افسران کو معمولی جبکہ ایک افسرکو سخت سزا سانئی گئی ہے ، دیگر شکایات پر دو اہلکاران کو سخت جبکہ 16کو معمولی سزا سنائی گئی ہے ۔ دستیاب اعداو شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں جنوری سے جون تک سب سے زیادہ 18655شکایات کا اندراج ہواجن میں سے16217نمٹا دی گئی ہیں ، صوبہ سندھ میں چھ ماہ کے دوران 16162شکایات درج کرائی گئیں جبکہ 29324نمٹائی گئیں سندھ میں جنوری سے قبل کی 24330شکایات بھی زیرالتوا تھیں،

خیبر پختونخوا میں چھ ماہ کے دوران 8745شکایات میں سے 8417نمٹا دی گئیں ، بلوچستان میں 6ماہ کے دوران درج 250شکایات میں سے 206نمٹائی گئی ہیں ، اسلام آباد میں اس عرصہ کے دوران 2810درج شکایات میں سے2782نمٹائی گئی ہیں ،

آزاد جموں کشمیر میں 376شکایات درج کرائی گئیں جن میں سے 373نمٹا دی گئیں گلگت بلتستان میں پولیس کے خلاف صرف 67 شکایات درج کرائی گئیں جن میں سے 58نمٹا دی گئیں۔

دوسری جانب جھوٹی شکایات کے اندراج میں بھی پنجاب 6335شکایات کے ساتھ پہلے ،خیبر پختونخوا1610شکایات کے ساتھ دوسرے ، اسلام آباد 558شکایات کے ساتھ تیسرے،سندھ 418شکایات کے ساتھ چوتھے، بلوچستان 130جھوٹی شکایات کے ساتھ پانچویں ، آزاد جموں کشمیر82شکایات کے ساتھ چھٹی اور گلگت بلتستان 23جھوٹی شکایات کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے ۔