پاک ایران بارڈرتیسرے روز بھی بند

aiksath.com.pk

کوئٹہ:کرونا وائرس کے خدشہ کے پیش نظر تفتان میں پاک ایران بارڈرتیسرے روز بھی بند ہے جبکہ حکومت نے ایران سے آنے والے 270 افراد کو تفتان میں دو ہفتوں کیلئے پاکستان ہاس میں قائم کوارنٹین مرکز منتقل کردیا گیا۔

حکام کے مطابق تفتان بارڈر پر  کرونا کے روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں، بارڈر پر اسکریننگ کے ساتھ ماسکس بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔ زائرین سمیت 270 افراد دو ہفتوں کے لیے طبی نگرانی کیلئے پاکستان ہاس میں موجود ہیں۔پاک ایران بارڈر کی بندش کے باعث سرحد کی دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں، 

کرونا وائرس کے ممکنہ خطرہ کے پیشِ نظر 5 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ تربت اسپتال میں 10بیڈز پر مشتمل کرونا وائرس کے حوالیسیوارڈقائم کردیاگیا ہے۔پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق ایران سے آنے والے پاکستانیوں کو تفتان میں زائرین کی رہائش کیلئے بنائے گئے پاکستان ہاس میں رکھا جائے گا جسے کوارنٹین مرکز کا درجہ دے دیا گیا ہے

جبکہ تفتان کے بیسک ہیلتھ یونٹ کو آئسولیشن وارڈ بنادیا گیا ہے۔ مشتبہ مریضوں کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا۔حکام کے مطابق تفتان میں موجود ایرانی ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد واپس ایران جانے کے منتظر ہیں، جنہیں تاحال واپس ایران جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ ڈرائیورز ایران سے ایل پی جی گیس اور کنٹینرز اور ٹرکوں میں تجارتی سامان لیکر پاکستان آنے تھے۔ ذرائع کے مطابق تفتان سے ملحقہ ایرانی حدود میں میرجاوہ کے مقام پر سرحد بند ہونے کی وجہ سے کئی پاکستانی سرحد پار پھنسے ہوئے ہیں

۔ڈی جی ہیلتھ سروسز بلوچستان شاکر بلوچ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سے نیشنل انسٹیٹویٹ آف ہیلتھ کے ڈاکٹروں کی ٹیم کوئٹہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تفتان پہنچ گئی ہے۔ یہ ڈاکٹرز تفتان میں موجود باقی ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیم کو کرونا وائرس سے نمٹنے کی تربیت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، ڈبلیو ایچ او اور یونیسف سے تھرمل گنز، ماسک ، دستانے اور لیبارٹری کٹس کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔واضح رہے کہ کرونا وائرس کی روک تھام کیلئے پاک ایران سرحد بند کردی گئی ہے۔