پاکستان میں کورونا وائرس کے 4ہزار سے زائد مشتبہ مریض موجود ہیں، ڈاکٹر ظفر

aiksath.com.pk

اسلام آباد :وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے 4ہزار سے زائد مشتبہ مریض ہیں جن میں سے 664 گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران رپورٹ ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد افضال اور وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے معلومات فراہم کیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا میں 186ملک ان میں وائرس پھیل چکا ہے اور اس کے مریض ہیں، 2لاکھ 77ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اب تک 11ہزار 431 اموات ہو چکی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے 92ہزار افراد مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے 4ہزار 46 مشتبہ مریض ہیں لیکن پچھلے 24گھنٹوں میں 664مشتبہ افراد رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ان میں سے 534افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 104 افراد، سندھ میں 259، خیبر پختونخوا میں 27، بلوچستان میں 103، گلگت بلتستان میں 30 اور آزاد جموں و کشمیر میں ایک جبکہ اسلام آباد میں 10افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی مریض اس مرض سے صحتیاب ہو رہے ہیں اور اب تک 5افراد مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں لیکن آ نے والے دنوں میں متعدد افراد کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جن افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ان میں سے تین ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک کراچی، ایک مردان اور ایک پشاور میں ہلاک ہوا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے تفتان کے حوالے سے بھی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم نے تفتان میں اس طرح کا انتظام کیا تھا کہ جس کی بدولت ہمیں پتہ چلا کہ کون سے کیسز مثبت ہیں تاکہ ہم ان کی مناسب طریقے سے ان کا علاج معالجہ کر کے صحتیاب کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 24گھنٹے میں ملک میں داخلے کے 18 سے 19 مقامات ہیں اور وہاں سے ہم پاکستان آنے والے 13ہزار 991 لوگوں کی اسکریننگ کر چکے ہیں اور اب تک پاکستان میں باہر سے تشریف لانے والے 14لاکھ افراد کی اسکریننگ ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق 28 فروری سے 17مارچ کے درمیان 6ہزار 304افراد صرف ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے جس میں بلوچستان میں 2ہزار 421لوگ ایران سے واپس آئے، خیبر پختونخوا میں 176، پنجبا سے 2ہزار 12، سندھ سے ایک ہزار 59، آزاد جموں و کشمیر کے 14 اور گلگت بلتستان کے 523 افراد ایران سے واپس آئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جو بھی لوگ ایران سے آرہے ہیں انہیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور اس وقت پاکستان کے مختلف صوبوں میں 3ہزار 378افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان مین اس وقت 14لیب حکومت قائم کرچکی ہے، چاروں صوبوں خصوصا گلگت بلتستان میں یہ لیبارٹریز ہیں جو متواتر ٹیسٹ کر رہی ہیں اور ان لیبارٹری میں آنے والے دنوں میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔معاون خصوصی کے مطابق حکومت پاکستان کی سماجی فاصلہ رکھنے کی اعلان کردہ پالیسی ہے جس کے تحت لوگوں کوہدایت کی گئی ہے کہ کم از کم 2میٹر کا فاصلہ رکھیں تاکہ لوگ محفوظ رہ سکیں، اگر ہم صرف احتیاط سے کام لیتے ہوئے ذمے داری کا مظاہرہ کریں تو ہم اس بیماری کے پھیلا کو پاکستان میں بہت مثر طریقے سے روک سکتے ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان نے بین الاقوامی مسافروں پر کورونا ٹیسٹ کی شرط لگائی تھی، جس کے بعد کل وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک اور مشکل فیصلہ کیا گیا۔

مذکورہ فیصلے کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ (21 مارچ کی رات 8 بجے سے دو ہفتوں کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں کو معطل کردیا گیا ہے اور 4 اپریل کی شام 8 بجے تک پاکستان آنے والی پروازیں معطل رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس میں تمام مسافر پروازیں، چارٹر پروازیں اور نجی پروازیں جو مسافر لے کر آرہی ہیں وہ شامل ہیں تاہم اس میں ہم ایک استثنی یہ دے رہے ہیں کہ پی آئی اے کے وہ طیارے جو بیرون ملک جاچکے ہیں وہ آسکیں گے اور یہ تمام طیارے آ ج اتوار کی صبح تک واپس آجائیں گے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ پابندی غیرملکی سفارتکاروں اور کارگو طیاروں کے لیے نہیں ہوگی اور وہ ان دو ہفتوں کے دوران آسکیں گے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد افضان نے بتایا کہ سنگل اسکینر اور تھرمل گنز کے ساتھ مسافروں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے اور آئندہ 15دن میں چین سے سامان آنے کی صورت میں اس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لنڈی کوتل میں قرنطینہ سینٹرز کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، اگلے دو سے تین دن میں چمن میں 300 اور تفتان میں 600 کمروں کا قرنطیہن سینٹر بنانے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان تینوں جگہوں پر آئندہ 10 سے 15دنوں میں ایک ہزار مزید کمروں کا اضافہ کیا جائے گا۔