سپریم کورٹ ،حکومتی اپیلوں کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

aiksath.com.pk

 اسلام آباد:سپریم کورٹ کے دو ججز کی معذرت کے بعد  فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ملزمان کی بریت کی خلاف حکومتی اپیلوں کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوگیا، اٹارنی جنرل کی استدعا پر تین رکنی بینچ نے معاملہ فوری طور پر چیف جسٹس کو بھجوادیاگیا۔ 

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی خصوصی بینچ نے میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے ملزمان کی بریت کی خلاف حکومتی اپیلوں کی سماعت  کی  تو بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھاکہ اس کیس میں صرف لارجر بینچ بنانے کا ایشو ہے کیونکہ میں اور ساتھی جج جسٹس مظہر عالم میاں خیل ہائیکورٹس میں ان مقدمات پر سماعت کر چکے ہیں اس لئے مناسب نہیں کہ اپنے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کو بھی سنیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت لارجر بینچ سے بھی زیادہ ایشو درپیش ہے آ ج کیس کے میرٹس  پرنہیں جا رہا  لیکن پشاور ہائیکورٹ مقدمات  میں حتمی فیصلے تک ملزمان کو ضمانتیں دینے سے متعلق کیس سن رہی ہے،پشاور ہائیکورٹ میں ملزمان کی ضمانتوں سے متعلق کیس آ ج بھی سماعت کیلئے مقرر ہے اٹارنی جنرل نے کہاکہ اگر پشاور ہائیکورٹ نے دوران سماعت ملزمان کو ضمانتیں دے دیں تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہو جائے گا ، جسٹس یحیی آفرید ی کاکہنا تھا کہ اگر پشاور ہائیکورٹ کوئی فیصلہ دیتی ہے تو آپ سپریم کورٹ اس کے کے خلاف آ سکتے ہیں۔

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اپیل دائر کرکے سارا عمل دوبارہ سے شروع کرنا پڑے گا اس لئے سپریم کورٹ پشاور ہائیکورٹ کو آج فیصلہ کرنے سے روک دے ، جسٹس مشیر عالم  نے کہاکہ ہم کیس سنے بغیر حکم امتناعی جاری نہیں کر سکتے ، اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ استدعا ہے کہ پھر نئے بینچ کی تشکیل کیلئے فائل آج ہی  چیف جسٹس کو بھجوا دی جائے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے نئے بینچ کی تشکیل کیلئے  فائل آ ج ہی چیف جسٹس کو بھجوانے کی ہدایت کردی ۔