قاضی فائز عیسی کیس کی 36ویں سماعت کا مکمل احوال

aiksath.com.pk

اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ عدالت عظمی کے جج کے حوالے سے وحید ڈوگر کو کیا غیب سے معلومات ملیں؟ اس ملک میں بہت سے کام غیب سے ہوتے ہیں۔بتایا جائے کہ اے آر یو یونٹ کی حیثیت کیا ہے؟کیا وحید ڈوگر کے کوائف کا جائزہ لینا ضروری نہیں تھا؟عدالت نے حکومتی وکیل کے سامنے متعدد نئے سوالات اٹھاتے ہوئے آج تک کیس کی سماعت ملتوی کردی ہے ۔

جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور دیگر فریقین کی جانب سے دائر درخواستون پر سماعت کا آغاز ہوا تو حکومتی وکیل فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ گذشتہ روز کے عدالتی سوالات کا جوابات دینے سے قبل چند حقائق عدالت کے سامنے رکھوں گا، ان کا کہنا تھا کہ10 اپریل 2019 کو وحید ڈوگر نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو شکایت بھیجی۔ فروغ نسیم نے کہاکہ آٹھ مئی کو وحید ڈوگر نے لندن پراپرٹی کے حوالے سے اے آر یو کو خط لکھا جس میںوحید ڈوگر نے لندن پراپرٹیز ہی قیمت خرید ، مارکیٹ ویلیو کے بارے میں بتایا۔اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہفروغ نسیم صاحب یہ بتائیں لندن پراپرٹیز کی معلومات کس طرح سے انٹرنیٹ پر شائع کی گئیں۔وحید ڈوگر کی شکایت پر انکوائری کی تحقیقات کی اجازت کس نے دی اور ایسٹ ریکوری یونٹ(اے آر یو) نے شکایت پر انکوائری کا آغاز کیسے کر دیا۔اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہعدالت کے تمام سوالات کے جوابات میرے پاس ہیںاے آر یو نے کیسے سارے معاملے کی انکوائری کی، عدالت کو بتانگا ۔انہوں نے کہاکہ 1988 کے بعد برطانیہ میں ہر پراپرٹی کا ریکارڈ اوپن ہے اوراے آر یو کو قانون کی سپورٹ حاصل ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے فروغ نسیم سے کہاکہآپ منی ٹریل کی بات کرتے ہیں بظاہر یہ ٹیکس کی ادائیگی کا معاملہ ہے،اس مقدمے میں جسٹس قاضی فائز پر کرپشن کا الزام نہیں لگایا گیا ان پرالزام ہے کہ لندن کی پراپرٹی ظاہر نہیں کی گئی ، جو ظاہر کرنا چاہیے تھی ۔

فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے لیکن جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچوں اور اہلیہ نے بھی لندن کی پراپرٹی ظاہر نہیں کی ، فاضل جج کی اہلیہ نے 2014 میں آمدن 9285 ظاہرکی 2011 اور 2013 میں بچے تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد کیسے مہنگی پراپرٹی خرید سکتے تھے ۔2011 اور 2013 میں بچوں کی عمر بھی زیادہ نہیں تھی، فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بلاشبہ قاضی خاندان امیر ہے لیکن ریکارڈ زرعی زمین پر زرعی ٹیکس ظاہر نہیں کرتا ، جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر نے اس معاملے پر کاروائی کیوں نہیں کی،؟ فروغ نسیم نے جواب دیاکہایف بی آر نے خوف کی وجہ سے ٹیکس کے معاملے پر جج کے خلاف کاروائی نہیں کی۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایا کہ اگرایف بی آر حکام کاروائی نہیں کرتے تو کیا صدر مملکت قانونی کاروائی کو بائی پاس کر سکتے ہیں؟ فروغ نسیم نے جواب دیا کہایف بی آر حکام کو خوف تھا جج کے خلاف کاروائی کی تو انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے گا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہیہ ذہین ذہن میں رکھیں ہر ایک کو اپنا موقف پیش کرنے کا حق ہے اورمقدمہ کے حوالے سے ہر ایک چیز کا جائزہ لیا جائے گا اس معاملے میں کسی نقطہ کو بغیر جائزہ لئے نہیں چھوڑا جائے گایہ بھی دیکھنا ہے کہ اہلیہ اور بچے زیر کفالت تھے یا نہیں تھے،اس سارے میں کسی چیز کو کٹ شارٹ نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس درخواست گزار وحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام کا پتہ پتہ کیسے چلا؟ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہوحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے نام کے اسپلینگ نہیں آتے ہیںجب نام اسپلینگ درست نہیں ہونگے تو ویب سائٹ پر سرچ کیسے ہو سکتا ہے؟جسٹس مقبول باقر نے سوالات اٹھائے کہ وحید ڈوگر کس میڈیا کیلئے کام کر رہا ہے،؟وحید ڈوگر کا ماضی کیا ہے؟وحید ڈوگر کی درخواست پر بڑی تیزی سے کام کا آغاز ہوگیا۔ فروغ نسیم نے کہاکہ عدالتی فیصلہ کے مطابق مجھے معلومات کو دیکھنا ہے۔

جسٹس باقر کا کہنا تھا کہ کیا وحید ڈوگر کو غیب سے معلومات ملیں اس ملک میں بہت سے کام غیب سے ہوتے ہیں۔بتایا جائے کہ اے آر یو یونٹ کی حیثیت کیا ہے؟کیا وحید ڈوگر کے کوائف کا جائزہ لینا ضروری نہیں تھا؟فروغ نسیم نے جواب دیاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف انکوائری کے لیے صدرِ مملکت کی اجازت درکار نہیں تھی۔وفاقی حکومت کے رولز آف بزنس اے آر یونٹ کو انکوائری کی اجازت دیتے ہیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہلندن کی ایک پراپرٹی 2004 میں خریدی گئی۔ فروغ نسیم نے کہاکہپہلی پراپرٹی 2004 میں خریدی گئی، 2011 میں بیٹی کا نام جائیداد میں شامل کیا گیا۔جوڈیشل کونسل نے ریفرنس دائر ہونے پر معزز جج کو نوٹس جاری نہیں کیا۔جوڈیشل کونسل نے پہلے اٹارنی جنرل کا موقف سنا ، پھر جسٹس قاضی فائز سے جواب مانگاجسٹس قاضی فائز عیسی نے ابتدائی جواب میں پراپرٹی سے انکار نہیں کیا۔ فروغ نسیم نے مزید کیاکہجوڈیشل کونسل 12 جولائی 2019 کو جج صاحب کو شوکاز نوٹس جاری کیا جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ ٹیکس قانون کی پیروی نہیں کی گئی اورآئین پاکستان کاآرٹیکل 209 عدلیہ کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ غیر ملکی جائیدادیں بچوں کے نام خریدی گئی 2009 میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی بطور آمدن 3 کروڑ 72 لاکھ تھی، بظاہر لگتا ہے بطور وکیل جسٹس قاضی کے پاس کافی پیسہ تھا وہ کامیاب وکیل تھے لیکن ہمیں فاضل جج کی بددیانتی یا کرپشن دکھائیں ایسا کچھ بتائیں جس سے جرم سامنے آئے۔ جج شیشے کے گھر میں لیکن جوابدہ ہے، آئین ججز کو ذاتی حملوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کچھ ایسا دکھائیں جس سے پتہ چلے یہ جائیداد جج صاحب نے خاندان کے افراد کے نام خریدی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ غیر ملکی جائداد کو ٹرسٹ کے ذریعے چھپایا گیا۔فروغ نسیم نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی بنک ٹرنزیکشنز کا ریکارڈ دکھا دیں عدالتی سوالات پرمیرا ایک لائن کا جواب ہے کہ منی لانڈرنگ سنگین جرم ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہاگر پیسے بینکوں کے ذریعے گیا ہے تو منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہوگی؟فروغ نسیم نے کہاکہدوسرے جج نے تو دھرنا فیصلہ نہیں دیا حکومت نے انکے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا ہے ۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے زرعی زمین پر ایگری کلچرل ٹیکس دینے کا ریکارڈ نہیں دیا اورجسٹس قاضی فائز عیسی نے الزامات کا جواب دینے کے بجائے آزاد عدلیہ کے پیچھے چھپنے کا سہارا لیا، فروغ نسیم کے اس موقف پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ ریفرنس کی کاروائی کو زیر بحث لائیں،صدر مملکت نے جب ریفرنس کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس کیا معلومات تھی۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہصدر مملکت نے ریفرنس کے حوالے سے معلومات خود حاصل نہیں کیں۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہجسٹس قاضی فائز عیسی آج منی ٹریل دے دیں تو جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا قانون کے تحت جج صاحب منی ٹریل دینے کے پابند ہیںآپ سوال پر آتے نہیں اور قانون بھی نہیں دکھا رہے ہیں، جسٹس منصور نے کہاکہ جج کہتا ہے کہ پراپرٹیز کا مجھ سے نہیں متعلقہ لوگوں سے پوچھیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ جواب جسٹس قاضی فائز عیسی دے، جسٹس منقبول باقر نے کہاکہ انکم ٹیکس کا نوٹس جج کی اہلیہ کو جاری کیا گیا،ایف بی آر میں انکم ٹیکس کا معاملہ کس مرحلے میں ہے ؟ جسٹس عمر عطابندیال نے سوال کیاکہکیا ایف بی آر کے غیر ملکی جائیداد ظاہر کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے ۔فروغ نسیم نے کہاکہ جج کے بچے ٹیکس ایمنسٹی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کیا یہ ٹیکس چوری کا مقدمہ ہے، فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کا مقدمہ ہیبھارت میں جج کے اہلیہ بچوں کے نام اثاثے تھے تحقیقات شروع ہوئیں تو بھارت کے اس جج نے استعفی دے دیا۔ جسٹس عمر عطابندیال نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے قانون میں جج پر جائیداد ظاہر کرنے کی پابندی نہیں ہے؟ بھارت کے قانون کو چھوڑیں پاکستان کے قانون کی بات کریں اورایمنسٹی اسکیم کا حوالہ دلائل میں کیوں دیا گیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ اس مقدمے سے ایمنسٹی کا تعلق کیا ہے کیا جج نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔

فروغ نسیم نے اعتراف کیاکہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایمنسٹی اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں لیا۔ جسٹس عمر عطابندیال نے فروغ نسیم سے کہاکہقانون دکھا دیں جس کے تحت جج کو اپنی اور خاندان کے افراد کی جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہے, شق پانچ کے تحت جج کیلئے ایسی پابندی نہیں کہ وہ غیر ملکی جائیداد ظاہر کرے۔ اس پر فروغ نسیم نے کہاکہعدالت کے سوالات کا جواب دوں گا پہلے مجھے حقائق بیان کر لینے دیں۔جسٹس یحیی آفریدی نے سوال اٹھائے کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس مسترد کر سکتی ہے؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کونسل ریفرنس کو مسترد کر سکتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ جوڈیشل کونسل صدر مملکت کے ریفرنس پر ایسی ڈکلیریشن دے سکتی ہے،تویا جوڈیشنل کونسل کی ڈکلیریشن اور ابزرویشن کے نتائج نہیں ہوں گے،فروغ نسیم نے کہاکہ آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل نے سفارشات دینی ہوتی ہیں.

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ عدالت عظمی کے فیصلوں کے تحت جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس پر صدر مملکت کے عمل کا جائزہ نہیں لے سکتی،میرے ذہن میں ایک بات کھٹک رہی ہے کہ ٹیکس قانون کا آرٹیکل 116 زیر کفالت کی بات کرتا ہے۔کسی کے خلاف مناسب مواد کی موجودگی کو قانون سے ثابت کرنا ہوتا ہے،۔ بعدازاں عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری معروضات طلب کر لیں جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ ریفرنس کی بدنیتی اور اے آر یو کی قانونی حیثیت پر سوالات پوچھے گئے ہیں،اگر صدارتی ریفرنس میں نقص ہیں تو کونسل سوموٹو کاروائی کر سکتی ہے. جسٹس عمر عطا بندیانے سوال اٹھایا کہ کیا جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس پر کاروائی کی پابند ہے،فرض کر لیں یہ ایک کمزور ریفرنس ہے، جس کے پس پردہ مقاصد ہیں،کیا کونسل ایسے ریفرنس پر کاروائی کرنے کی پابند ہے؟کیا کونسل ریفرنس میں کمی کوتاہی نظر انداز کر کے کاروائی کر سکتی ہے؟، جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اے آر یو نے کتنی عوامی شکایات پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہے، جسٹ۔ کیس کی مزیدسماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔