جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کی سماعت آج پھر ہوگی

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ اپنے ہی جج جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی37ویں سماعت آج کرے گی ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا تعلق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے کم آبادی والے صوبے بلوچستان سے ہے تاہم رقبے کےلحاظ سے بلوچستان سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی اپنے ایک منفردموقف کی وجہ سے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان دونوں ججز میں مشترک بات یہ ہے کہ دونوں کا تعلق ایک ہی صوبہ بلوچستان سے ہے۔

مستقبل میں موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد کے بعد چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے والے فاضل جج جسٹس عمر عطا بندیال اس فل کورٹ بینچ کی سربراہی کررہے ہیں جو جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کی سماعت کررہا ہے۔ اگرجسٹس قاضی فائز عیسی اس ریفرنس کے ذریعے منصب سے ہٹائے نہ گئے تو جسٹس عمر عطابندیال کے بعد چیف جسٹس بنیں گے۔

یاد رہے کہ ایک عادی درخواست گزار عبدالوحید ڈوگر کی جانب سے بھجوائی گئی درخواست پر حکومت نے صدر مملکت عارف علوی کے توسط سے یہ ریفرنس دائرکررکھا ہے۔ جس میں جسٹس قاضی فائزعیسی پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ریفرنس پر کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری تھی کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اس کارروائی کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کردیا توطویل عرصہ سے یہ کیس جاری ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر،جسٹس منظور احمد ملک،جسٹس فیصل عرب،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل،جسٹس سجاد علی شاہ،جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس منیب اختر،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس قاضی محمد آمین احمد پر مشتمل دس رکنی فل کورٹ بینچ نےتین مہینے دس دن کے طویل وقفے کے بعد دوجون 2020 بروز منگل کوصدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی آئینی درخواستوں پر سماعت دوبارہ شروع کی ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسی کے والد قاضی محمد عیسی تحریک آزادی پاکستان کے اہم رہنما وبانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے اور پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل تھے.