ملک سے سودی نظام کے‌خاتمے کا مقدمہ پھر ملتوی

aiksath.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت میں دہائیوں سے زیر التوا سود کےخاتمے کے لئے مقدمات کی سماعت ایک بار پھر آگے نہ بڑھ سکی۔

چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ محمد نورمسکان زئی کی سربراہی میں جسٹس شوکت علی رخشانی اورجسٹس ڈاکٹر سید انور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سود کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

سما عت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گزشتہ تاریخ پر اس عدالت کے دائرہ سماعت پر تمام فریقوں کا موقف آچکا ہے اور آج سٹیٹ بنک آف  پاکستان نے اپنا موقف دینا تھا اس پر سلمان اکرم راجہ کی طرف سے خاتون معاون وکیل نے کہا کہ آج عدالت میں حاضر نہیں ہو سکتے جس پر عدالت نے سٹیٹ بنک کو آئیندہ تاریخ پر اپنا موقف پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ سوموار تک ملتوی کر دی۔

ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اور پروفیسر محمد ابراہیم خان نے وفاقی شرعی عدالت میں حرمت سود پیٹیشن کی دوبارہ آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سود قرآن و حدیث کے لحاظ سے حرام قطعی ہے اور یہ واحد گناہ ہے جس پر اللہ رب العزت اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شرح سود انتہائی بلند, تعمیراتی , صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر

انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38-ایف حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر معیشت کو سُود سے پاک کرے۔

انہوں نے کہا کہ 1991ء میں بھی وفاقی شرعی عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ چکی ہے جس کی تائید سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت اپیلٹ بنچ نے 1999ء میں کرتے ہوئے اسے برقرار رکھا۔بعدازیں ریویوبنچ نے اس فیصلہ کو واپس بھیجا۔انہوں نے اپنے بیان میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اور معزز جج حضرات سے اپیل کی کہ اس اہم کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اور حکومت اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے تاخیری حربے اختیار کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

سماعت کے موقع درخواست گزاران کے وکلاء قیصر امام ایڈووکیٹ،امداداللہ ایڈووکیٹ،سیف اللہ گوند ل ایڈووکیٹ،یونس سنہوترا ایڈووکیٹ ، محمد ابراہیم خان ایڈووکیٹ،ڈاکٹر فرید پراچہ  اور عدالتی معاونین ڈاکٹر عتیق الظفر،ڈاکٹر طفیل سمیت دیگر وکلاء  اور درخواست گزاران عدالت میں موجود تھے