سیمینار سے خطاب پرجسٹس قاضی فائز کے خلاف تیسرا ریفرنس دائر

aiksath.com.pk

اسلام آباد:کراچی میں سیمینار سے خطاب کرنے پرسپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور شکایت (ریفرنس) دائر کی گئی ہے ،

فاضل جج کے خلاف16صفحات پر مشتمل یہ شکایت ایبٹ آباد کے ایک وکیل مدثر ملک کی جانب سے دائر کی گئی ہے ۔

شکایت میں ہائیکورٹ کے وکیل درخواست گزارنے استدعاکی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور ذاتی موقف پیش کرنے کے لئے عوامی فورم کو استعمال کرکے جسٹس قاضی فائز عیسی نے ملک بھر کی عدلیہ اور ملک کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسی نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان کوبھی نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے عوامی سطح پر بغیر ثبوتوں کے الزامات لگا کر سپریم جوڈیشل کونسل کے ضاطہ اخلاق کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کی ہے ،۔

یہ خبر بھی پڑھیں:جسٹس قاضی فائز عیسی کے مستقبل کا فیصلہ 2 روز بعد

شکایت میں کہا گیا ہے کہ جج اپنے فیصلوں کے ذریعے بات کرتے ہیں ،لیکن یہ امر انتہائی قابل تشویش ہے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج عدلیہ سمیت حکومت کے متعدد اداروں پر تنقیدکرتا ہے ، یہ امر بھی حیران کن ہے کہ منی ٹریل کے الزامات کا سامنا کرنے والا جج عوامی فورمز پر بات کررہاہے ،جس میں وہ میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے بات کرتاہے حتی کہ فاضل جج نے موبائل کارڈز پر ٹیکس روکنے سے متعلق عدالتی فیصلہ پر تنقید کے دوران عدلیہ کو بھی نہیں چھوڑا ۔ فاضل جج کے اس انتباہ کہ پابندیوں سے دشمن کو فائدہ پہنچتا ہے ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری قانون سے بالاتر نہیں ہے ، فاضل جج کو اپنا کیس میڈیا یاسیمینارز کی بجائے سپریم جوڈیشل کونسل میںلڑنا چاہیئے ۔ درخواست گزار نے میڈیا میں شائع خبروں کو ریفرنس کا حصہ بنایاہے۔۔

شکایت میں سپریم کورٹ کے ججز کے لئے وضع کئے گئے ضابطہ اخلاق اور ججز کے حوالے سے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ۔ریفرنس کی استدعا میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی بڑے پیمانے پر مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے عوامی سطح پر عدلیہ اور ریاستی اداروں پر الزام لگایا ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ اپنا ذاتی موقف پیش کرنے کیلئے عوامی فورم کا انتخاب کرکے جسٹس قاضی فائز عیسی نے ہمارے پیارے ملک کی عدلیہ اور دیگراداروںکی بدنامی کی ہے ۔ بغیر ثبوتوں کے الزام لگا کر جسٹس قاضی فائز عیسی نے اعلی عدلیہ کے ججوں کیلئے بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 209کے تحت عہدے سے ہٹانے کی سفارش کرے۔
یہ خبر بھی پڑھیں:جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر

ریفرنس کی کاپی صدر پاکستان اور رجسٹرا ر سپریم کورٹ کو بھجوائی گئی ہے ۔

یاد رہے کہ فاضل جج کے خلاف دائر کیا جانے والا یہ تیسرا ریفرنس ہے ، پہلا ریفرنس صدر مملکت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا گیا ہے جبکہ دوسرا ریفرنس وحید شہزاد بٹ نامی شہری کی طرف سے دائرکیا گیاہے وحید شہزاد بٹ کا ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل پہلے ہی خارج کرچکی ہے ۔