ڈونلڈ ٹرمپ،بھارت کو 3 ارب ڈالر کے فوجی اور جنگی آلات دے گا

aiksath.com.pk

نئی دہلی:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ بھارت کے آخری روز ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی۔نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کشمیر بہت سے لوگوں کے لیے طویل عرصے سے بہت بڑا مسئلہ چلا آرہا ہے۔ میں مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لیے تیار ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ‘پاکستان کشمیر پر کام کررہا ہے، کشمیر کئی عرصے سے لوگوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے، ہر مسئلے کے دو رخ ہوتے ہیں، ہم نے دہشت گردی کے مسئلے پر تفصیل سے بات چیت کی’۔

امریکی صدر  نے پاکستان سے متعلق کہا کہ اسلام آباد کشمیر کے مسئلے پر کام کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر مسئلے یا کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ‘ہم نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی، اس میں دو رائے نہیں کہ یہ ایک مسئلہ ہے، پاکستان اس پر کام کررہا ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘میں نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی کیونکہ میرے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور بھارت کے وزیرا عظم نریندر مودی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اگر میں ان کے درمیان ثالثی کرسکتا تو ضرور کروں گا’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں اپنے دورے کی ممکنہ طور پر آخری پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘امریکا کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘بھارت ایک بہادر ملک ہے اور میرے دونوں رہنماوں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں’۔

امریکی صدر نے کہا کہ ‘مودی پرسکون شخصیت کے مالک ہیں لیکن بہت بہادر اور دہشت گردی سے متعلق ان کا سخت موقف ہے، ہم اس مسئلے سے نمٹیں گے’۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ میں اس مسئلہ پر تبسرہ نہیں کروں گا، میں یہ معاملہ بھارت پر چھوڑتا ہوں۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا تھا کہ ‘میں نے ذاتی طور پر مودی کے ساتھ مذہبی آزادی کا معاملہ اٹھایا ہے’۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ‘مودی مذہبی آزادی کے خواہاں ہیں’۔ امریکی صدر نے بھارتی سرزمین پر پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے اور کہاکہ پاکستا ن دہشت گردی سے نمٹنے  کیلئے بہت اچھا  کررہا ہے۔ 

امریکی صدر نے کہاکہ امریکہ میں سفری پابندیاں مسلمانوں کیلئے  نہیں تھیں۔ امریکہ میں سفیر پابندیاں امریکہ  مخالف افراد کیلئے تھیں۔ انہوں نے کہاکہ عراق اور شام میں داعش کا خاتمہ کیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر کے دورے کے پہلے دن ہزاروں افراد نے متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے بھی کیے اور اس دوران جھڑپوں میں کم سے کم 7 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے،

واضح رہے کہ  امریکا اور بھارت کے مابین کوئی تجارتی معاہدہ نہیں ہوسکا۔امریکی صدر کے دورہ بھارت کو غیرمعمولی اہمیت دی گئی لیکن تجارتی معاہدے کے تناظر میں دونوں بھارت اور امریکا کے مابین قابل ذکر معاہدہ نہیں ہوا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورے کے دوران بھارت کو 3 ارب ڈالر کے فوجی اور جنگی آلات فروخت کرنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔بھارت، امریکا سے میزائل ٹیکنالوجی سمیت جنگی ہیلی کاپٹرز بھی خریدے گا۔