30 سال تک اقتدار میں رہنے والے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک انتقال کر گئے

aiksath.com.pk

قاہرہ:مصر پر 30 سال تک اقتدار میں رہنے والے سابق صدر حسنی مبارک 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔عالمی میڈیا کے مطابق مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کا مقامی اسپتال میں انتقال ہوگیا ہے،

حسنی مبار ک کی موت کی تصدیق سرکاری ٹی وی پر منگل کو کی گئی۔وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل تھے جہاں انہیں مصنوعی سانس دی جارہی تھی۔ ان کے دونوں صاحبزادے حال  ہی میں کرپشن الزامات میں رہا ہوئے تھے۔

حسنی مبارک کے طویل اقتدار کے خلاف قاہرہ، سکندریہ، سویز اور مصر کے کئی دیگر شہروں میں ہونے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے فوج کا استعمال کیا گیا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ 800 سے زیادہ لوگوں کی جان گئی تھی۔18 دن تک چلے ان مظاہروں کی وجہ سے 30 سال تک اقتدار میں قابض رہنے کے بعد مبارک کو صدر کے عہدے چھوڑنا پڑا تھا۔اور اس دوران ہلاک ہونے والے 239 مظاہرین کے قتل کے الزام میں سابق صدر کو جیل بھیج دیا گیا تھا،

مبارک نے مظاہرین کے قتل کے احکامات دینے کے الزامات سے انکار کیا تھا اور زور دے کر کہا تھا کہ تاریخ انہیں ایک محب وطن کے طور پر یاد کرے گا جس نے اپنے ملک کی خدمت بے لوث انداز سے کی۔رواں برس جنوری کے اواخر میں ان کی سرجری ہوئی تھی۔

ان کے بیٹے علی نے  ہفتہ کو کہا تھا کہ ان کے والد کو ابھی بھی انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے،۔حسنی مبارک ٹرائل کا سامنا کرنے والے پہلے عرب لیڈر تھے،اسیر رہنما 6 سال تک قانونی جنگ لڑنے کے بعد 2017 میں رہا کردیئے تھے تاہم قید و بند کے دوران ہی ان کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ رہائی کے بعد بھی وہ عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے تھے۔حسنی مبارک 60 کی دہائی میں ملک کی فضائیہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر اور بعد ازاں مصر فضائیہ کے کمانڈر بھی رہے۔

فوجی کیریر کے بعد سیاست میں بھی کامیاب سفر کا آغاز کیا 1975 سے 1981 تک ملک کے نائب صدر بھی رہے۔حسنی مبارک 1981 سے 1982 کے دوران وزیراعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے جب کہ اس کے وقت کے صدر انور سادات کے قاتلانہ حملے میں مارے جانے کے بعد ملک کے پچاسویں صدر مقرر ہوئے اور 30 سال تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔