بھارت’ مسلم کش فسادات میں جاں بحق افراد30 ہو گئے ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

aiksath.com.pk

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں مسلم مخالف فسادات سے  جاں بحق  ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 30ہوگئی جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی  میں کرفیو کے باوجود انتہاپسندوں کے مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملے جاری ہیں  ، مسلم کش فسادات میں مرنیوالوں کی تعداد 30ہو گئی  ، خوف کے شکار مسلمان متاثرہ علاقے سے ہجرت کرنے پرمجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھارت کی صورتحال تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔امریکی ڈیموکریٹ رہنمابرنی سینڈرز نے بھی بھارت میں اقلیتوں کیخلاف پرتشدد کارروائیوں پراظہارتشویش کیا ہے۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرٹرمپ کاردعمل قیادت کی ناکامی ہے۔

امریکی سینیٹرمارک وارنر کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات اطمینان بخش نہیں، بھارتی حکام اقلیتوں کیخلاف پرتشدد کارروائیاں رکوائیں۔بھارت کی انتہاپسند حکومت نے اقلیتوں کیلئے آواز اٹھانے کی پاداش میں دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایس مورالی دھار کا تبادلہ ہریانہ کی عدالت میں کر دیا ہے۔

وفاقی حکومت نے یہ حکم نامہ رات 11 بجے جاری کیا۔ہندو مسلم فسادات دہلی کے شمالی مشرقی علاقوں میں ہو رہے ہیں جہاں کم سے کم تین مساجد اور ان گنت دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔جھڑپوں میں شریک دونوں دھڑے ایک دوسرے پر پتھرا ئوکر رہے ہیں جبکہ پولیس ہندوانتہاپسندوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی ہے اور آنسوگیس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

دہلی کے مشرقی علاقوں جعفرآباد، موج پور، سلیم پور اور چاند باغ میں ہندوئوں نے مسلمانوں پر تشدد کیا جس سے جانی نقصان ہوا تاہم پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر  رہی ہے۔ ہندو مسلم فسادات والے علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے  اور امتحانات معطل ہیں۔دہلی کے نومنتخب وزیر اعلی اروند کیجریوال کہا ہے کہ پولیس ہنگاموں پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے اور انہوں نے فوج کو شہر میں بلانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ۔سونیا گاندھی نے نئی دہلی میں ہلاکتوں کے ذمہ دار وزیراعظم مودی کو ٹھہرایا ہے اور فوج بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔